خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 106

خطبات محمود 104 جلد موم اور تکلیف دہ کو چھوڑ دو۔مبلغین اسلام خوش ہوتے ہیں کہ دنیا نے اب طلاق کے مسئلہ کی صداقت کو تسلیم کر لیا۔یہ خوشی کی بات ہے کہ عیسائیت طلاق کی منکر تھی مگر اب اسی مسئلہ طلاق کو جو اسلام پیش کرتا تھا مان گئی اور اس کے صرف یہ معنے ہوں گے کہ عیسائیت کو شکست ہو گئی لیکن جو دیگر احکام اسلام ہیں اگر دنیا ان کی بھی مخالفت کرے اور ان کی مخالفت میں دنیا کو بظاہر آرام نظر آئے تو پھر ہمارے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں رہتی۔ہم اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ اسلام مفید ہے مگر غور کرو۔دنیا نے اسلامی مسئلہ طلاق کو کب مانا اور اپنی غلطی کو کب محسوس کیا 19 سو سال سے دنیا اس کے خلاف عقیدہ رکھتی تھی اور چھ سو سال پہلے نکال دیئے جائیں تو تیرہ سو سال سے اس کی مخالفت میں سرگرم تھی۔اتنے لمبے عرصہ کے بعد اس کو اپنی غلطی محسوس ہوئی ہے۔اسی طرح اسلام کے دوسرے احکام جو در حقیقت مفید ہیں مگر دنیا کو ان غیر مفید بلکہ نقصان دہ خیال کر رہی ہے کیا ہم انتظار کرتے رہیں گے کہ دنیا اپنے تجربہ کے بعد پھر ان مسائل کی حقانیت کی بھی قائل ہو جائے گی اور اس طرح اسلام کامیاب ہوگا۔ان مسائل میں سے ایک عورتوں کے حقوق کا سوال بھی ہے اس لئے ہمارے عالموں اور لیکچراروں کا فرض ہے کہ وہ دنیا کی رو کا مطالعہ کریں کہ دنیا کد ھر جارہی ہے۔جدھر وہ غلطی ہے چل رہی ہو ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو ادھر سے لوٹائیں۔قبل اس کے کہ دنیا کو اس غلطی میں پڑے ہوئے صدیاں گزر جائیں اور ہم متوقع رہیں کہ تجربہ کے بعد خود اسلام کی صداقت کو مان لیں گے۔کیونکہ اگر اسی طرح انتظار کیا جائے تو اور واقعات ہو سکتے ہیں جو ان غلطیوں سے نکلنے کے بعد دوسری غلطیوں میں دنیا کو ڈال سکتے ہیں۔علاوہ اس کے جو عادات گھر کر جائیں ان کا چھوڑنا مشکل ہوتا ہے۔اور اگر خدا کی طاقت کو مد نظر نہ ہو یا خدا تعالٰی اپنے خاص تصرف کے ماتحت تغیر نہ پیدا کر دے تو بالکل ہی نا ممکن ہوتا ہے۔پس اسلام نے عورتوں کو حقوق دیئے ہیں اور مناسبت سے دیئے ہیں اور بعض تعلیمات میں اسلام نے عورتوں کے بارے میں پہلے مذاہب سے اختلاف کیا ہے مثلاً پردہ ہے اسلام سے قبل جس قدر مذاہب ہیں ان کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان میں پردہ نہ تھا یا جیسے اسلام میں ہے ایسا نہ تھا۔مثلاً یہود، عیسائی، ہندو، بدہ، زرتشتی وغیرہ اقوام کی پرانی تاریخیں بتاتی ہیں کہ اول ان میں پردہ نہ تھا اگر تھا تو اس رنگ میں نہ تھا مثلاً ان اقوام میں اسی قسم کے پردے کا پتہ لگتا ہے کہ عوام سے تو پردہ ہے مگر دربار کے امراء سے پردہ نہیں۔مگر اسلام میں کسی حد تک تنگی ہے