خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 104

خطبات محمود ۱۰۴ ۳۱ جلد سوم اسلام اور حقوق نسواں (فرموده ۱۵- اکتوبر ۱۹۲۱ء) له خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا : اسلام کے رستہ میں جو عظیم روکیں ہیں اور جن کو اب تک نہ مسلمانوں نے سمجھا ہے نہ مسلمان مبلغوں نے پوری طرح ان کی چھان بین کی ہے۔ان میں سے ایک مسئلہ عورت اور مرد کے حقوق اور ان کے فرائض کا ہے۔میرے نزدیک اسلام کے رستہ میں کوئی بھی مذہب حائل نہیں۔(1) خواہ وہ کتنا ہی بڑا ہو۔آریہ مذہب بوجہ اپنی شورش، تیزی اور تندی کے یورپ کے چند فلسفیوں کی تائیدات کے سوا کچھ اثر نہیں رکھتا کیونکہ اس کی کسی حقیقت پر بنیاد نہیں دنیا ہمیشہ دو باتوں پر جمع ہوا کرتی ہے۔مادی فوا مکہ پر۔طبیعی یا روحانی فوائد پر۔لیکن روح و مادہ کی پیدائش کا سوال ایسا نہیں جس سے دنیا کو کوئی مادی یا طبعی فائدہ ہو۔مذہبی میدان مباحثہ میں یہ کچھ گرمی پیدا کر دے تو کر دے وہ بھی محض اس لئے کہ ایک پنڈت اچھا بولتا ہے یا ایک مولوی۔مگر اس کے بعد دنیاوی تعلقات پر اس کا کچھ بھی اثر نہیں پڑتا اور علاوہ باطل ہونے کے اجتماعی اصول کے لحاظ سے اس میں کچھ بھی اہمیت نہیں۔نہ یہ بہت سے لوگوں کو اپنے گرد جمع کر سکتا ہے نہ بہت دیر تک جمع کر سکتا ہے۔وہی مذاہب دنیا کو اپنے گرد جمع کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جنہوں نے دنیا میں جذبات کو اپیل کرنے والی کوئی چیز پیش کی۔