خطبات محمود (جلد 3) — Page 97
خطبات محمود ۹۷ ۲۷ جلد مو ہم میں اور غیروں میں عملی فرق ہونا چاہئے فرموده ۱۴- مارچ ۱۹۲۱ء) ۱۴ مارچ ۱۹۲۱ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے محمد اسماعیل صاحب ولد نظام الدین صاحب کا نکاح مریم بنت محمد عبد اللہ صاحب سے ۳۰۰ روپے مہر پر پڑھا۔ خطبہ مستونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : ۔ چونکہ اس وقت درس کا وقت ہے اس لئے میں فریقین کو صرف اس قدر نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ یہ وہ زمانہ ہے جس میں تمام دنیا کی نظر ہماری جماعت پر پڑ رہی ہے ۔ لوگ ہمارے ایک ایک عمل کو دیکھتے ہیں کہ ہم میں اور ہمارے غیروں میں کیا فرق ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر ہمارا دعوئی تو یہ ہو کہ ہم خدا کے ایک نبی کے پیرو ہیں لیکن اس کے قدم پر ہمارا قدم نہ ہو تو ہم پر یہ الزام آسکتا ہے کیونکہ اگر کوئی اور مدعی ہو اور وہ سچا بھی ہو مگر جو لوگ اس کے ماننے والے ہوں ان کی عملی حالت اچھی نہ ہو تو ان کو کیا فائدہ ۔ اگر خدا ہمارے کسی باریک استحقاق سے ہمیں اس کی طرف ہدایت دے تو دے ورنہ ظاہر حالت ہم اس کی طرف متوجہ نہیں ہو سکتے۔ پس یہی حال اوروں کے متعلق ہے کہ جب تک لوگ ہم میں اور ہمارے غیروں میں عملی فرق نہ دیکھ لیں اس وقت تک وہ ادھر توجہ نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک ہماری ترقی نہیں ہوئی۔ لوگوں کو عموماً ہم میں اور اپنے سے غیروں میں کوئی نمایاں فرق نظر نہیں آتا۔ وہ ہمیں غیروں سے ممتاز نہیں دیکھتے اس لئے جب تک ہمارے ہر ایک کام میں خاص رنگ نہ ہو ہم ترقی نہیں پاسکتے ۔ یہی حال نکاح کے معاملہ کا ہے ۔ اگر لوگ دیکھیں کہ احمدی لڑکے اپنے