خطبات محمود (جلد 3) — Page 92
خطبات محمود ۹۲ ۲۵ جلد سوم استخاره، مهر، جیز اور اعلان بالدف (فرموده ۹ - فروری ۱۹۲۱ء) حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۹۔فروری ۱۹۲۱ء کو صبح کی نماز کے بعد خان محمد اوصاف علی خان صاحب سی آئی ای کمانڈر انچیف نامہ کا نکاح امتہ اللہ سلیمہ بیگم بنت جناب مولوی ذو الفقار علی خان صاحب رامپوری مہاجر قادیان سے مبلغ ۸ ہزار روپے مہر پر پڑھائے۔-: خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : نکاح کا معاملہ بہت خشیت اور ڈر کا معاملہ ہوتا ہے کیونکہ اس کا خاتمہ چند سال میں نہیں ہو جاتا۔لوگ کہتے ہیں عمر بھر کے لئے ہے مگر یہ صحیح نہیں ہے۔یہ لاکھوں سال کے لئے ہے بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ عرصہ کے لئے کیونکہ مرنے کے بعد بھی یہ تعلق اپنے اثرات چھوڑتا ہے اس لئے اس میں بہت خشیت اور خوف کی ضرورت ہوتی ہے کہ انسان بہت احتیاط سے کام لے اور تقویٰ کے ماتحت دعاؤں اور استخاروں پر زور دے۔مگر لوگ اس معاملہ میں عموماً دعاؤں اور احتیاطوں سے کام نہیں لیتے۔حکم ہے کہ صاف سیدھی بات کہو مگر لوگ پر پیچ بات کہتے ہیں۔حکم ہے کہ تقویٰ سے کام لو۔مگر سنا ہے کہ لوگ خصوصاً عورتیں اس موقع پر گالیاں اور نخش گیت گاتی ہیں۔جس سے دلوں پر زنگ لگتا ہے۔خدا کا شکر ہے کہ ہماری جماعت میں یہ بات نہیں۔فرمایا : اس میں استخارہ کی ضرورت ہوتی ہے۔رسول کریم نے اس پر بہت زور دیا ہے۔مسلمان