خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 52

خطبات محمود ۵۲ ۱۵ جلد سوم تقویٰ اختیار کرنے سے اچھے انسان پیدا ہونگے فرموده ۱۹۲۰ء) سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے سید مهدی حسین پسر سید ولایت علی شاہ صاحب کا نکاح رقیہ بیگم بنت جناب ڈاکٹر سید غلام حسین صاحب حصار سے ایک ہزار روپیہ مہر پر پڑھا۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- انسان کی پیدائش اور اس کے دنیا میں آنے کی غرض کیا ہے اس کو کس نے پیدا کیا اور کیوں کیا اور اس کو اس خاص شکل میں پیدا کرنے کی کیا غرض اور کیا حکمت ہے ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ اس کا تعلق صرف اہل مذاہب سے نہیں بلکہ تمام انسانوں سے ہے۔یہ بے شک بجا ہے کہ بعض سوال اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان کا جواب دیتا صرف بانیان مذاہب ہی کا کام ہوتا ہے لیکن یہ ایک ایسا سوال ہے کہ ہر انسان سے اس کا تعلق ہے۔اس سوال کے جواب دینے والے دو طرح کے لوگ ہو سکتے ہیں۔ایک تو وہ جن کا عقیدہ ہے کہ ہمیں نہ کسی نے پیدا کیا ہے نہ ہمارے پیدا کرنے میں کوئی غرض ہے۔ہم خود بخود پیدا ہوئے اور چند دن رہ کر یہاں سے چلے جائیں گے۔ایسے لوگ اپنے تئیں کسی اصول کا پابند نہیں خیال کرتے اور نہ وہ کسی قانون کو اپنے لئے جانتے ہیں وہ کسی اصول کے پابند نہیں جو ان کے دل میں آتا ہے کرتے ہیں۔ان کو کوئی قانون کسی امر سے روک نہیں سکتا۔ان کی مثال اس شخص کی مانند ہے جو سوتے سوتے اٹھ کر جنگل میں چلا جائے اور وہاں اس کی آنکھ کھل جائے۔ایسے بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو سوتے سوتے اٹھ کر بہت سے کام کر لیتے ہیں لیکن ان کو کاموں کا علم نہیں ہو تا۔