خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 621 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 621

خطبات محمود ۶۲۱ اس کا جواب یہ ہے کہ شادی کے اس طریقہ کو اختیار کیا جائے جو بنی نوع انسان کے لئے مفید اور باعث راحت و آرام ہو اور وہ اصل طریقہ اسلام نے پیش کیا ہے۔اسلام کہتا ہے کہ نسلوں کے منبع کی تربیت کرد اگر تمہاری عورتوں میں نیکی اور تقویٰ ہو گا تو آئندہ تمہاری اولادوں میں بھی یہ چیز پیدا ہو جائے گی اور وہ دنیا کے لئے فتنہ و فساد کا موجب نہ بنیں گے بلکہ دنیا کے لئے امن کا ذریعہ بنیں گے۔اور چونکہ شادی کے نتیجہ میں بچے پیدا ہوتے ہیں اس لئے اسلام نے یہ ضروری قرار دیا کہ نکاح کے موقع پر بھی میاں بیوی کو وعظ و نصیحت کی جائے اسی لئے رسول کریم ﷺ نے یہ آیات جو میں نے ابھی تلاوت کی ہیں ہمیشہ نکاح کے موقع پر پڑھی ہیں ان میں والدین اور میاں بیوی کے فرائض بیان کئے گئے ہیں۔نکاح کی رسم تو قریباً تمام قوموں میں ہے اس موقع پر خوشیاں منائی جاتی ہیں یعنی لوگ باجے بجاتے ہیں بعض کئی اور رسوم ادا کرتے ہیں۔ہندوؤں میں مٹھائیوں کی گڑیاں بنائی جاتی ہیں اور میاں بیوی کو پھیرے دیئے جاتے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ یہ خوشی کا موقع ہوتا ہے لیکن اسلام نے اس موقع کو صرف خوشی ہی نہیں قرار دیا بلکہ مرد اور عورت کو سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کا بھی حکم دیا ہے اور بتایا ہے ہے کہ۔نکاح جو تم کرنے لگے ہو اس سے بچے پیدا ہوں گے جن سے ہزار ہا قسم کی خوبیاں یا عیب رونما ہو سکتے ہیں اس لئے اللہ تعالٰی سے دعا کرتے ہوئے اس کام میں ہاتھ ڈالو۔مثال کے طور پر تم دیکھو انبیاء بھی عورتوں سے ہی پیدا ہوئے اور نکاحوں کے نتیجہ میں پیدا ہوئے اور ان کے دشمن بھی عورتوں سے ہی پیدا ہوئے اور نکاحوں کے نتیجہ میں پیدا ہوئے لیکن دونوں میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔فرعون موسیٰ یعنی جو موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تھا اور جس کا نام رعمیس تھا جب اس کے ماں باپ کی شادی ہوئی ہو گی تو کتنی دھوم دھام سے ہوئی ہو گی لاکھوں روپے کا جہیز دیا گیا ہو گا ملک بھر میں چراغاں کیا گیا ہو گا کہ شہزادہ کی شادی ہو رہی ہے، ملک کے کونے کونے سے مبارکباد کے پیغام آئے ہوں گے مگر کسی کو معلوم نہ تھا کہ اس دھوم دھام کی شادی کے نتیجہ میں وہ انسان پیدا ہو گا جس پر ہمیشہ لعنتیں پڑتی رہیں گی اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ماں باپ کی شادی ہوئی ہوگی تو کتنی خاموش شادی ہوگی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد غریب آدمی تھے بھٹے میں اینٹیں پکانے کا کام کرتے تھے ان کی خوشی زیادہ سے زیادہ یہ ہوئی ہوگی کہ پانچ سات آدمیوں کو کھانا کھلا دیا ہو گا۔سارے ملک میں چراغاں تو کجا کسی ایک شہر میں بھی چراغاں نہ ہوا بلکہ کسی ایک قصبہ میں بھی نہ ہوا ہو گا کسی گاؤں میں بھی نہ ہوا ہو گا، بلکہ