خطبات محمود (جلد 3) — Page 612
خطبات محمود جلد سوم بھی ہیں جنہوں نے رسول کریم ﷺ کو نہیں دیکھا مگر آپ کی وفات کو وہ اپنی زندگی ہی کا سانحہ سمجھتے ہیں۔ان کو آپ کی وفات ایسی ہی معلوم ہوتی ہے جیسا کہ صحابہ کو محسوس ہوئی جن کے سامنے آپ تھے یہی چیز در حقیقت کامل ایمان کی علامت ہے۔میں فخر نہیں کرتا لیکن اللہ تعالٰی کا مجھ پر احسان ہے کہ میں رسول کریم ﷺ کی محبت کے لحاظ سے ہمیشہ ہی آپ کی وفات کو اسی طرح محسوس کرتا ہوں کہ گویا میری زندگی میں ہی آپ زندہ تھے اور میری زندگی میں ہی آپ فوت ہوئے۔بہر حال رسول کریم ﷺ کی وفات سے جیسا کہ حسان نے کہا من شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنتُ أحاذر هر انسان پر یہ بات کھل رہی ہے کہ دنیا میں کوئی وجود بھی ہمیشہ نہیں رہا اور رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد کسی مسلمان کا یہ خیال کر لینا کہ حضرت عیسی زنده آسمان پر بیٹھے ہیں میرے نزدیک ایسا خیال ہے جو عقل کے کسی گوشے میں نہیں آسکتا اور ایک مسلمان ایک لحظہ کے لئے بھی یہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ رسول کریم ی تو فوت ہو جائیں اور حضرت عیسی زندہ آسمان پر بیٹھے ہوں میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر یہ بات ہوتی تو صحابہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے ساتھ ہی سارے کے سارے مرجاتے چنانچہ بعض صحابہ نے اس بات کی شہادت بھی دی۔رسول کریم ﷺ کی وفات کے موقع پر جب حضرت ابو بکڑ نے کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا کہ اگر تم محمد ﷺ کے متعلق یہ خیال کرتے ہو کہ آپ زندہ ہیں تو یہ غلط ہے وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَانُ مَاتٌ اوقتِل انقلبْتُم عَلى أَعْقَابِكُم سے یعنی رسول کریم ﷺ بھی خدا کے رسولوں میں سے ایک رسول تھے جس طرح آپ سے پہلے تمام رسول فوت ہو چکے ہیں اسی طرح آپ بھی فوت ہو گئے ہیں تب ان کے دلوں کو تشفی ہوئی ورنہ وہ اپنے آپ کو پاگلوں کی طرح محسوس کر رہے تھے۔اگر کوئی استثناء ہو تا تو صحابہ کے نزدیک یقینا وہ استثناء رسول کریم اللہ کے لئے ہوتا۔تو دنیا میں انسان آتے ہیں اور جاتے ہیں، پیدا ہوتے ہیں اور مرتے ہیں، دنیا میں کوئی انسان بھی ایسا نہیں جو ہمیشہ قائم رہا ہو اور دنیا میں کوئی انسان بھی ایسا نہیں جو ہمیشہ زندہ رہنے والا ہو۔اس صورت میں انسان کی ترقی کا مدار اسی بات پر ہے کہ جانے والوں کے قائم مقام پیدا ہوں۔اگر مرنے والوں کے قائم مقام پیدا ہوتے ہیں تو مرنے والوں کا صدمہ آپ ہی آپ مٹ جاتا ہے اور انسان سمجھتا ہے کہ اگر ہمارے پیدا کرنے والے کی مرضی ہی یہی ہے تو پھر جزع فزع کرنے یا حد سے زیادہ افسوس کرنے کی کوئی وجہ نہیں یہ عقل کے خلاف اور جنون کی علامت ہوگی۔