خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 603 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 603

خطبات محمود ۶۰۳ جاد مو میں ہے لڑائی کریں یا نہ کریں اگر لڑائی ہو تو میں انصار کی طرف سے عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور آپ کے بائیں بھی لڑیں گے اور آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور آپ کے پیچھے بھی لڑیں گے شے اور یا رسول اللہ ! ) دشمن اس وقت تک آپ کے پاس نہیں پہنچ سکے گا جب تک ہماری لاشوں پر سے گزر کر نہ جائے۔یہ کون سے بھائی تھے ، یہ کون سے نیچے تھے ، یہ کون سے چچیرے بھائی تھے ، یہ کون سے خونی تعلق رکھنے والے تھے، وہ کسی ایک شخص سے نہال کا رشتہ تھا نانی کے دور کے رشتہ داروں کا اثر ہی کیا ہو سکتا ہے اور وہ تعلق بھی صرف ایک گھرانے سے تھا۔پس آپ کے مستقبل کو پڑھنے کا ایک ہی ذریعہ تھا اور وہ تھے آپ کے گذشتہ اعمال جن کے نتیجہ میں غیر متناہی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو چکی تھی۔انصار بولتے یا نہ بولتے ، ان کو کی طرف سے یہ جواب ملتایا نہ ملتا، آپ کے گذشتہ حالات کا مطالعہ کرنے والا ہر انسان وہی جواب جو انصار نے دیا قبل از وقت دے سکتا تھا کہ آپ کے صحابہ آپ کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کریں گے۔پس کسی انسان کا مستقبل دکھانا تو خدا کا کام ہے اس کا مستقبل لذت اور راحت سے وابستہ ہے یا دکھ اور تکلیف ہے۔اور دوسرا طریق مستقبل دیکھنے کا یہ ہے کہ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدِ یعنی ماضی میں جو کام تم نے کئے ہیں وہی کام مستقبل میں جا کے پھل لائیں گے۔یقینی اور قطعی علم تو خدا کو ہے کہ تمہارا مستقبل اچھا ہو گا یا برا، راحت والا ہو گا یا دکھ اور تکلیف والا مگر ایک حد تک مستقبل کا اندازہ انسان کے گذشتہ اعمال سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔اگر اس نے لنگڑے یا خاص الخاص یا ثمر بہشت کا درخت لگایا ہے تو اس سے لنگڑے یا خاص الخاص یا ثمر بهشت ہی پیدا ہوں گے انگور یا سیب پیدا نہیں ہوں گے اور نہ ہی وہ حنظل اور محمد پیدا ہو گا۔پس اگر ایک شخص اس بات سے یہ قیاس کرتا ہے کہ میں نے جو آم کا درخت لگایا ہے اس سے آم ہی پیدا ہوں گے حنظل یا تحمتہ پیدا نہیں ہو گا تو اس کا یہ قیاس درست ہو گا۔اسی طرح جو شخص اپنے گذشتہ اعمال کو دیکھ کر اپنے مستقبل کا قیاس کرتا ہے اس کا وہ قیاس نوے فیصد درست ہو گا۔پس مستقبل کو پڑھنے کے دو ہی طریق ہیں یا تو خدا بتا دے یا پھر انسان گذشتہ اعمال کے نتائج سے اس کا استنباط کر سکتا ہے۔پس جو شخص اپنے ماضی کو پڑھنے کا عادی نہیں وہ یکدم مصیبت میں جلاء ہو گا لیکن اگر وہ اپنے ماضی کو پڑھنے کا عادی ہو گا کہ میرا ماضی خراب