خطبات محمود (جلد 3) — Page 602
خطبات محمود ۶۰۲ چاند سوم ہوگی اور جو دشمنوں کے لئے اس حد تک قربانی کرتا ہو کہ گویا غم کی شدت سے اپنی رگ جان کاٹ لینے کے لئے تیار ہو وہ دوستوں کے لئے کیا کچھ نہ کرتا ہو گا۔پس دیکھنا یہ نہیں تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے گھر میں کتنا خزانہ تھا، دیکھنا یہ نہیں تھا کہ چچیرے بھائیوں میں سے کتنے بھائی آپ کے ساتھ تھے کیونکہ صرف ایک ہی بھائی آپ کے ساتھ تھا دیکھنا یہ نہیں تھا کہ چوں میں سے کتنے تھے جو آپ کے ساتھ تھے کیونکہ صرف ایک ہی چچا آپ کے ساتھ تھا اور وہ بھی اگلی لڑائی میں شہید ہو گیا بلکہ دیکھنا یہ تھا کہ محمد رسول ا کے اعمال نے لوگوں کے قلوب میں کتنی محبت پیدا کر دی تھی اور کس طرح کئی دشمنوں کو اپنا عاشق اور گرویدہ بنا لیا تھا۔جب آپ نے بدر کے موقع پر صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ لوگو مجھے مشورہ دو کہ کیا کرنا چاہئے تو مہاجرین نے مشورہ دیا اور انصار اس مصلحت پر خاموش رہے کہ جن کے ساتھ لڑائی ہے خاندانی لحاظ سے وہ مہاجرین کے بھائی ہیں اگر ہم نے کہا کہ ہم لڑیں گے تو شاید مہاجرین کو یہ برا معلوم ہو اس لئے انہیں کو بولنا چاہئے۔چنانچہ مہاجرین مشورہ دے رہے تھے لیکن رسول کریم متواتر اس فقرہ کو دہرا رہے تھے کہ لوگو! مجھے مشورہ دو کیا کرنا چاہئے۔تب ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ) مشورہ تو آپ کو دیر سے مل رہا ہے پھر آپ کا متواتر یہ فرمانا کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو میں کیا کروں شاید آپ کی مراد اس سے یہ ہے کہ آپ چاہتے ہیں کہ انصار مشورہ دیں۔آپ نے فرمایا ہاں۔اس انصاری نے کہا یا رسول اللہ ! شاید آپ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا ہو گا کہ جب آپ کو مدینہ لانے کے لئے ہمارا اوفر آپ کے پاس مکہ میں حاضر ہوا تھا تو اس وقت آپ سے ایک معاہدہ ہوا تھا اور وہ معاہدہ یہ تھا کہ اگر دشمن مدینہ میں آپ پر حملہ آور ہو تو ہم آپ کے ذمہ دار ہوں گے اور اس کے معنے یہ تھے کہ مدینہ سے باہر اگر آپ کو دشمن سے لڑنا پڑے تو اس کی ذمہ داری ہم پر نہیں ہوگی۔لیکن یا رسول اللہ ! ( ) جس وقت ہم نے وہ معاہدہ کیا تھا تو اس وقت تو ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ آپ کی کیا حیثیت ہے۔صرف ایک سطحی ایمان حاصل تھا اور آپ کی نیکیوں اور خوبیوں کی گہرائیوں سے ہم واقف نہ تھے مگر یا رسول اللہ ! ( آپ ہمارے پاس تشریف لے آئے تو ہمیں معلوم ہوا کہ آپ کیا چیز ہیں۔اب اس معاہدہ کا کوئی اثر ہم پر نہیں اور ہم اس معاہدہ کی کوئی حقیقت نہیں سمجھتے۔یا رسول اللہ ! ( ) فیصلہ کرنا آپ کے اختیار