خطبات محمود (جلد 3) — Page 601
خطبات محمود 4۔1 اور محبت سے لگاؤ جو اس کے نیک اعمال کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو چکی ہے رسول کریم ان کے رشتہ دار بالعموم آپ کے مخالف تھے یہاں تک کہ جب مکہ فتح ہوا تو صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ آپ کہاں ٹھہریں گے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں کیا کہہ سکتا ہوں ہمارا تو کوئی گھر رشتہ داروں نے باقی نہیں چھوڑا۔کے ابتدائی ایام میں صرف حضرت علی تھے جو آپ کے رشتہ داروں میں سے آپ کے ساتھ تھے اور جو بچے کی حیثیت رکھتے تھے۔جب غزوہ بدر ہوا تو اس وقت وہ بڑے ہو چکے تھے مگر پھر بھی ان کی عمر پچیس سال کے قریب تھی۔تو غزوہ بدر کے موقع پر آپ کے رشتہ داروں میں سے صرف حضرت علی اور حضرت حمزہ" آپ کے ساتھ تھے۔حضرت علی کے ایک اور بھائی بھی مسلمان ہوئے تھے مگر غالبا اس وقت وہ حبشہ میں تھے۔آپ کے و بچے تھے مگر ان میں سے صرف ایک آپ کے ساتھ تھا اور آپ کے بچوں کے لڑکے بہت سے تھے مگر صرف دو تھے جو مسلمان تھے اور ان میں سے بھی ایک اس وقت باہر تھا اور ایک وہاں موجود تھا باقی سب آپ کے مخالف تھے۔ایسی حالت میں جب کہ مکہ والوں نے آپ پر حملہ کیا تو کیا آپ کے خاندانی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ کے بچاؤ کی کوئی صورت نظر آتی تھی۔جس کے بچے اس کے خلاف ہوں جس کے چچیرے بھائی اس کے خلاف جنگ پر آمادہ ہوں جس کے دور کے رشتہ دار اور قریبی رشتہ دار اس کی موت میں اپنی فلاح سمجھتے ہوں اس کے مستقبل کے متعلق کیا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔دنیوی سامانوں کے لحاظ سے کیا چیز تھی جس پر آپ بھروسہ کر سکتے تھے۔پس آپ کا مستقبل ان رشتہ داروں کے سلوک سے نہیں دیکھا جا سکتا تھا بلکہ آپ کا مستقبل اس قربانی کے ذریعہ دیکھا جا سکتا تھا جو آپ دنیا کی خاطر کر رہے تھے قرآن مجید میں خدا تعالٰی آپ کے متعلق فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ الَّا يَكُونُوا مُنُو مِنِينَ ہے کہ اے محمد رسول اللہ ! تجھے اپنی قوم کی کتنی فکر ہے اور تیرے دل میں کتنی غیر محدود محبت ہے اپنے دشمنوں کے متعلق کہ شاید تو اس غم میں اپنی رگ جان کاٹ لے گا اور اس غم سے ہلاک ہو جائے گا کہ یہ مسلمان کیوں نہیں ہو جاتے۔جس کے دل میں اپنے دشمنوں کے متعلق یہ درد پایا جاتا ہو کہ غم کی چھری کے ساتھ اپنی رگ جان انتہائی درجہ تک کاٹ لینے کے لئے تیار ہو (باخع کے معنی رگ کو آخر تک کاٹ دینے والے کے ہوتے ہیں) تو جس کی قربانی اپنے دشمنوں کے متعلق انتہاء تک پہنچی ہوئی ہو اس کے دل میں دوستوں کے متعلق کس قدر محبت