خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 600 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 600

خطبات محمود ۶۰۰ جلد سوم کی ان باتوں کو سن کر حیران ہوتا ہو گا کہ یہ تو ابھی ایک منٹ کے اندر مرنے والا ہے مگر اس کے ارادے اتنے لمبے ہیں۔تو انسان اپنا مستقبل اپنی عقل اور اپنے ارادہ کے ذریعہ سے نہیں پہچان سکتا بلکہ مستقبل کے پہچاننے اور جاننے کا اصل اور کامل ذریعہ خدا تعالیٰ ہی ہے اور مستقبل کے متعلق یقینی علم وہ نہیں جو حالات حاضرہ سے حاصل ہو رہا ہوتا ہے بلکہ یقینی علم وہ ہے جو خدا تعالی کی بتائی ہوئی بات کے ذریعہ سے حاصل ہو یا پھر دوسرا پہلو جس سے مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے وَ لتَنْظُرُ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدِ سے ہے یعنی ہر انسان کے اعمال ایک پھل لاتے ہیں اور وہ پھل بالعموم اس کے اعمال کے مطابق ہوتا ہے۔پس اگر ہم غد کا اندازہ اس سے لگائیں کہ انسان کے ارادے کیا ہیں اس کے پاس سامان کیا ہیں تو ہم موجودہ حالت سے اس کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکتے بلکہ اس کے مستقبل کا اندازہ ماضی کے حالات سے لگا سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ لتَنْظُرُ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدِ کہ یہ خیال نہ کرو کہ فلاں انسان کے پاس لاکھوں روپیہ ہے جس کے ذریعہ سے یہ کل دنیا کی تجارت پر غالب آجائے گا بلکہ تم اس کے ماضی کو دیکھو کہ اگر اس نے ہزاروں اور لاکھوں انسانوں پر ظلم کیا ہے اور ان کا خون چوس چوس کر اس نے یہ روپیہ جمع کیا ہے تو کون کہہ سکتا ہے کہ کل وہ مظلوم اس کے خلاف بغاوت نہ کر دیں گے اور اس کی بوٹی بوٹی نہ نوچ لیں گے۔پس اس کے مستقبل کا اندازہ اس روپیہ سے نہ لگاؤ جو اس کے پاس ہے، ان سامانوں سے نہ لگاؤ جو اسے حاصل ہیں بلکہ اس کے مستقبل کا اندازہ اس بغض اور کینہ سے لگاؤ جو اس کے بڑے اعمال کے نتیجہ میں لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو چکا ہے۔اسی طرح ایک دو سرے آدمی کے مستقبل کا اندازہ اس خالی بڑے سے نہ لگاؤ جو اس کی جیب میں ہے بلکہ اس غیر متناہی اخلاص اور محبت سے لگاؤ جو اس کے نیک اعمال کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو چکی ہے۔اگر ایک شخص لوگوں کے ساتھ ظلم، بے انصافی، جفاگری، جھوٹ، دعا اور فریب کا سلوک کرتا رہا ہے تو اس کے بھرے ہوئے خزانے اس کے مستقبل کے یقینی طور پر عمدہ ہونے کی علامت نہیں۔اور اگر ایک شخص لوگوں کے ساتھ انصاف اور رحم کا سلوک کرتا رہا ہے تو تم اس کے مستقبل کا اندازہ اس کے خالی بٹوے سے نہ لگاؤ کہ اس میں کوئی روپیہ نہیں، اس کے ماحول سے نہ لگاؤ کہ اس کے رشتہ دار طاقت ور نہیں بلکہ اس کے مستقبل کا اندازہ اس اخلاص