خطبات محمود (جلد 3) — Page 578
خطبات محمود ۵۷۸ جلد سوم اور کس قسم کا رشتہ میری ان ضرورتوں کو پورا کر سکتا ہے۔مثلاً اگر کسی لڑکی میں دینی تعلیم پائی جاتی ہے یا وہ تقویٰ و طہارت اپنے اندر رکھتی ہے تو اسی قدر پایا جانا کافی ہے۔ہاں اگر اس قسم کے دس میں رشتے اس کے سامنے ہوں تو پھر بے شک اسے مجبور نہیں کیا جا سکتا اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ فلاں رشتہ لو یہ اس کا اپنا اختیار ہے کہ ان میں سے جس کو چاہے پسند کرے۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ اپنی حماقت کی وجہ سے اس بات پر ناراض ہو جاتے ہیں کہ ہماری لڑکی کا رشتہ فلاں نے کیوں نہیں لیا حالانکہ یہ اس کا حق تھا کہ وہ جس کو چاہے لے اور جس کو چاہے رد کر رہے۔اسی طرح لڑکی والوں کا حق ہے کہ وہ جس کو چاہیں رشتہ دیں اور جس کو چاہیں رو کردیں سوائے اس کے کہ رشتہ سے انکار کرنے کی بنیاد یہ نہ ہو کہ چونکہ اس نے دین کے لئے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے اس لئے ہم اسے رشتہ نہیں دیتے اگر وہ ایسا کے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ شخص جو دین کے لئے قربانی کرتا ہے وہ ذلیل ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے جسے کوئی عظمند قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا۔اسی طرح وہ واقف ہے جس کے سامنے غریب لڑکیوں کے رشتے پیش کئے جاتے ہیں تو وہ انکار کر دیتا ہے اور امیروں پر چھاپہ مارنے کے لئے تیار رہتا ہے اس کا طریق عمل بھی صریحاً غلط ہے اور اس کو صحیح تسلیم کرنے کے معنے یہ ہوں گے کہ نیکی اور تقوی مالداروں میں ہی ہوتا ہے غریبوں میں نہیں ہوتا۔آخر جب وہ کہے گا کہ میں فلاں غریب لڑکی کا رشتہ نہیں لیتا تو کیا کہے گا یہی دلیل دے گا کہ اس میں نیکی کم ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ غرباء نیک نہیں ہوتے صرف امراء ہی نیک ہوتے ہیں اور یہ بات بھی بالبداہت باطل ہے اور اگر غرباء میں بھی نیکی ہوتی ہے ہے، ان میں بھی تقوی ہوتا ہے، ان میں بھی تعلیم ہوتی ہے، ان میں بھی دیانت ہوتی ہے تو اس کا غریب رشتہ لینے سے انکار کرنا سوائے اس کے کوئی مفہوم نہیں رکھتا کہ یہ بھی دنیا دارانہ خیالات اپنے اندر رکھتا ہے پس دونوں فریق کا یہ طریق عمل عقل اور حقیقت کے بالکل خلاف ہے اگر کوئی امیر اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے یہ کہتا ہے کہ شریعت نے بے شک دین اور نیکی کو مقدم قرار دیا ہے مگر مجھے دین ان دینداروں میں نظر نہیں آتا مجھے تو دنیا داروں میں دین نظر آتا ہے تو تم خود سوچ لو اس کا یہ فقرہ کتنا غیر معقول اور حقیقت سے دور ہو گا۔اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ مجھے دینداروں میں دیندار نظر نہیں آتا تو اس کی یہ بات ایسی ہی ہوگی جیسے کوئی کہے کہ سفید تاگوں میں مجھے کوئی سفید تاگا نظر نہیں آتا یا سیاہ لاگوں میں مجھے کوئی سیاہ تاگا نظر نہیں