خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 572 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 572

خطبات محمود ۵۷۲ جلد سوء کپڑوں میں اس امیر کے ہاں چلے گئے چونکہ یہ بہت بڑے عالم فاضل تھے اس لئے جاتے ہی دلیری سے صاحب صدر کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔اتنے میں ایک رئیس اس دعوت میں شمولیت کے لئے آگیا اس پر ایک نوکر دوڑا دوڑا آیا اور انہیں کہنے لگا میاں ذرا پیچھے ہٹ جاؤ یہ جگہ آپ کے لئے نہیں۔وہ وہاں سے اٹھے اور دوسری جگہ جا بیٹھے تھوڑی دیر کے بعد ایک اور رئیس آگیا اور اس پر دوسرا نو کر دوڑا دوڑا آیا اور اس نے وہاں سے بھی اٹھا دیا وہ اٹھ کر اور پیچھے چلے گئے۔اتنے میں بعض اور رؤسا آگئے اور نوکروں نے پھر ان سے کہا میاں ذرا اور پرے ہو جاؤ وہ ان کے کہنے پر اور پیچھے ہٹ گئے یہاں تک کہ ہٹتے ہٹتے شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ جوتیوں میں جابیٹھے خیر انہوں نے کھانا کھایا اور اٹھ کر چلے گئے۔اس رئیس نے تین دن کی دعوت کی ہوئی تھی دوسرے دن انہوں نے ایک بڑا سا خلعت جو کسی بادشاہ نے ان کو دیا تھا اور جس پر سونے چاندی کا خوب کام کیا ہوا تھا پہنا اور جا کر جوتیوں میں بیٹھ گئے۔اس پر جس طرح کل ایک ایک نوکر ان کو پیچھے ہٹاتا تھا اسی طرح ایک ایک نوکر آتا اور کہتا یہاں نہیں آگے تشریف لے چلیں، پھر دوسرا نو کر آتا اور کہتا یہاں نہیں اور آگے چلیں یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وہ صاحب صدر کے قریب جا بیٹھے۔جب کھانا سامنے آیا تو چونکہ وہ صوفی منش تھے اور جبوں اور خلعت کی انہیں کوئی پرواہ نہ تھی اس لئے انہوں نے اپنے اس کوٹ کو جو خوب ملا اور موتیوں سے جڑا ہوا تھا مروڑا اور شوربے کے پیالے میں بھگو دیا اس پر سب لوگ حیران ہو گئے کہ یہ کیا کر رہا ہے۔انہوں نے سمجھا کہ شاید پاگل ہو گیا ہے کہ ایسا قیمتی کوٹ شوربے کے پیالے میں ڈبو رہا ہے۔صاحب خانہ کو بھی یہ بات عجیب معلوم ہوئی اور اس نے ان سے کہا صاحب آپ یہ کیا کر رہے ہیں اس پر انہوں نے کہا کل میں آیا تھا تو مجھے گھسیٹ گھسیٹ کر جوتیوں میں بٹھا دیا گیا تھا مگر آج کوٹ صاحب آئے ہیں تو ان کی خاطر مجھے بھی اونچی جگہ پر بٹھا دیا گیا اس لئے یہ دعوت ان کی ہے میری نہیں اور میں انہیں کو یہ دعوت کھلا رہا ہوں۔لوگوں نے نام دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ آپ شیخ سعدی ہیں۔چونکہ ان کا نام ہر جگہ پہنچ چکا تھا اس لئے صاحب خانہ نے بڑی معذرت کی کہ نوکروں نے حماقت سے کام لیا اور آپ کو بلا وجہ تکلیف پہنچی۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ نوکروں نے کیا حماقت کرنی تھی دنیا میں رواج یہی ہے کہ روپیہ کی عزت کی جاتی ہے، علم کی عزت نہیں کی جاتی، دین کی عزت نہیں کی جاتی، شرافت کی عزت نہیں کی جاتی، تقوی وطہارت کی عزت نہیں کی جاتی، سوائے اس تقویٰ و طہارت کے جہاں