خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 568 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 568

خطبات محمود ۵۶۸ جلد سوم فرمايا والتنظُرُ نَفْسَ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ تم جو بڑی بڑی امنگیں کرتے ہو ہم تمہیں ان امنگوں سے منع نہیں کرتے۔اگر وہ تمہارے عمل کے مطابق ہیں تو بے شک کرو۔حضرت عمر فرماتے ہیں۔نية المومِن خَيْرٌ مِنْ عَمَلِہ سے جس شخص کے دل میں ترقی کے متعلق کوئی امنگ نہیں کوئی خواہش اور امید نہیں وہ ایک ذلیل اور ناکارہ وجود ہے۔اگر ایک شخص کے عمل ناکافی ہیں مگر اس کے باوجود یہ امید نہیں رکھتا کہ وہ کل اپنے خدا کو پالے گا تو اس کے متعلق ہم یہ نہیں کہیں گے کہ وہ بڑا نیک ہے بلکہ ہم کہیں گے وہ بے ایمان ہے۔نیک ہم اس کو کہیں گے جس کا آج کا عمل بے شک کمزور ہو مگر اس کے دل میں یہ امید ہو کہ اگر آج وہ اپنے خدا سے نہیں ملا تو کل اس سے جائے گا۔وہ آج نمازیں پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوۃ دیتا ہے، اور دوسری نیکیوں میں حصہ لیتا ہے مگر اس کے باوجود اگر اسے آج خدا نہیں ملتا تو وہ مایوس نہیں ہو جاتا بلکہ کہتا ہے کل میں اپنے رب کے پاس جا پہنچوں گا۔گویا ہر وقت اس کے دل میں ایک امنگ اور امید تازہ رہتی ہے اور تھوڑے سے عمل کے باوجود خدا تعالی سے ملنے کی تڑپ ہر وقت اس کے دل میں موجود رہتی ہے ایسے شخص کے متعلق ہم بے شک کہیں گے کہ وہ نیک ہے۔لیکن اگر یہ امنگ اس کے دل میں نہیں پائی جاتی تو ہم اسے اچھا نہیں کہیں گے۔تو مستقبل کے متعلق امیدیں رکھنا ترقی کی ایک کلید ہے جو شخص مستقبل کے متعلق کوئی امید نہیں رکھتا وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔پس حقیقت ہی ہے کہ نِيَّةُ المُؤْمِن خَيْرٌ مِنْ عَمَلِهِ مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہوتی ہے یعنی وہ جتنا کام کرتا ہے آئندہ اس سے زیادہ کام کرنے کی نیت رکھتا ہے۔اگر کوئی شخص کسی راستہ پر جارہا ہو اور اس کی اپنے پیروں پر نظر ہو تو لازما وہ ٹھوکریں کھائے گا اسی طرح اگر وہ پیچھے کی طرف دیکھے گا تب بھی ٹھوکریں کھائے گا۔کیونکہ ٹھوکر کی چیز آگے ہوتی ہے مگر جو آگے کی طرف دیکھتا ہے وہ ہر قدم کے اٹھانے سے پہلے اگلی چیزوں کو دیکھ لیتا ہے اور کہتا ہے یہ بھی ٹھوکر کی جگہ ہے وہ بھی ٹھوکر کی جگہ ہے اور بعد میں چاہے اس کی آنکھ کسی اور طرف ہو اس کے دماغ کے پیچھے جو علم جاری ہو گا وہ اسے بتا رہا ہو گا کہ اتنے فاصلہ پر ٹھوکر کا مقام ہے چنانچہ جب بھی وہ اس مقام پر پہنچے گا سنبھل جائے گا اور ٹھو کر کھانے سے محفوظ ہو جائے گا۔تو امید میں انسانی ترقی کے لئے ایک نہایت ہی ضروری اور لازمی چیز ہیں ہاں جو امیدیں عمل کے مطابق نہ ہوں وہ انسان کی تباہی کا موجب بن جاتی ہیں۔مگر کتنے لوگ ہیں جو اس اصل کے مطابق چلتے ہیں۔دنیا میں اکثر ایسے ہی لوگ ہیں جو ایسی امیدیں