خطبات محمود (جلد 3) — Page 567
خطبات محمود ۵۶۷ جلد سوم ہوتا ہے اور کہتا جاتا ہے میں ایک دن بڑا مہندس بنوں گا تم فورا اسے دیکھتے ہی کہہ دیتے ہو یہ شخص پاگل ہے۔آخر یہ فرق کیوں ہے؟ اس کی منزل بھی دور ہے اور اس کی منزل بھی دور ہے مگر ایک کو تم پاگل کہہ رہے ہو اور دوسرے کو ہو نہار اور ہوشیار قرار دیتے ہو۔فرق یہی ہے کہ ایک کا قدم مشرق کی طرف اٹھ رہا ہے مگر وہ جانا مغرب کی طرف چاہتا ہے اور دو سرا جس طرف جانا چاہتا ہے اسی طرف اپنا قدم بڑھا رہا ہوتا ہے۔گویا ایک کی امنگ اور طرف جا رہی ہے اور عمل اور طرف جا رہا ہوتا ہے مگر دوسرے کی امنگ اس طرف جارہی ہوتی ہے جس طرف اس کا عمل جا رہا ہوتا ہے اگر اس کا عمل ایک طرف اور امنگ دوسری طرف تو تم کہہ دیتے ہو یہ شخص پاگل ہے۔محض اس لئے نہیں کہ اس کا مستقبل نظر نہیں آتا اس بناء پر ہم کسی کو پاگل نہیں کہتے بلکہ پاگل ہم اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی امنگ اور ہے اور عمل اور ہے۔اس کے مقابلہ میں ایک اور شخص ہوتا ہے جس کا مستقبل اسی طرح نظر نہیں آتا جس طرح پہلے کا مستقبل نظر نہیں آتا مگر ہم کہتے ہیں وہ بڑے حوصلوں والا ہے، بڑے ارادوں والا ہے بلکہ ہم کہہ دیتے ہیں ”ہو نہار بروا کے چکنے چکنے پات " گویا ہم اس کی تصدیق کرتے ، اس کے جذبات کو پسند کرتے اور اس کے آئندہ مستقبل کے متعلق خود بھی امیدیں کرنے لگ اتے ہیں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں جدھر اس کا قدم اٹھ رہا ہے ادھر ہی اس کی امید جا رہی ہے۔لیکن ایک شخص جو جا تو بٹالے کی طرف رہا ہو اور کہتا یہ ہو کہ میں دریائے بیاس پہنچ جاؤں گا تو ہم کہیں گے یہ شخص پاگل ہے۔گویا ہم کسی کو اس کی امنگ کی وجہ سے پاگل نہیں کہتے بلکہ امنگ اور عمل کے فرق کی وجہ سے پاگل کہتے ہیں۔اللہ تعالٰی ہمیں قرآن کریم میں نصیحت فرماتا ہے کہ وَلَتَنْظُرُ نَفْسُ مَا قَدَّمَتْ لِغَدِ ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اس بات پر غور کرے اور دیکھے کہ مَا قَدَّمَتْ لِغَدِ اس نے غدر کے لئے کیا بھیجا ہے اور اس کا عمل اس کی امنگ کے مطابق ہے یا نہیں۔پھر فرماتا ہے وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ الله خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ سے تمہارے جو آئندہ کے متعلق امیدیں اور ارادے ہیں ان کے بارہ میں تم نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ ان امیدوں اور تمہارے عمل میں کوئی مطابقت ہے یا نہیں۔آخر آج سے ہی پیدا ہو گا غر غر سے پیدا نہیں ہو گا۔مستقبل کیا ہے ؟ مستقبل حال کا بچہ ہے۔اگر حال کا قدم اور طرف اٹھ رہا ہے تو لازما مستقبل بھی اسی حال کے مطابق ہو گا۔گدھی کا بچہ آخر گدھا ہی ہو گا شیر نہیں ہو گا اور شیر کا بچہ شیری ہو سکتا ہے گائے یا بکری نہیں بن سکتا۔پس