خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 556

خطبات محمود ۵۵۶ ان کلمات سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اور بڑے بڑے کاموں کو رسول کریم نے مومن کے لئے بشارت اور برکت کا موجب قرار دیا ہے اور ان کو برکت اور بشارت کا موجب بنانے کی تاکید فرمائی ہے ویسے ہی نکاح کو آپ نے برکت اور بشارت کا موجب بنانے کی تحریک فرمائی ہے کیونکہ اگر نکاح برکت اور بشارت کا موجب نہیں تو اس کی ابتداء میں الحمد للہ کہنے کے کوئی معنے نہیں اور اگر نکاح ہمارے لئے برکت اور بشارت کا موجب نہیں تو ہمارے منہ سے حمد اس موقع پر زیب نہیں دیتی۔ہزاروں آدمی دنیا میں اس قسم کے موجود ہیں جو ان غلط خیالات میں مبتلاء ہیں کہ شادیاں وبال جان ہوتی ہیں لڑکیوں میں بھی ایسی ہیں اور لڑکوں میں بھی ایسے ہیں خصوصاً یورپ اور امریکہ می ۴۰ ۵۰۰ - ۵۰ سال تک لوگ شادیاں نہیں ، کرتے اور جب ان سے پوچھا جائے کہ کیوں نہیں کرتے تو وہ کہتے ہیں جتنے دن بھی آزادی اور آرام کے مل جائیں اتنا ہی اچھا ہے۔یہی حال لڑکیوں کا ہے وہ چالیس چالیس، پچاس پچاس سال کی عمر تک آزاد رہتی ہیں اور جب ان سے پوچھا جائے تو وہ کہتی ہیں اول تو ہم نے شادی کرنی ہی نہیں اور اگر کرنی ہی پڑی تو اس سے پہلے جتنے دن آزادی کے میسر آجائیں اتنا ہی غنیمت ہے۔گویا شادی اور بیاہ کو وہاں کی لڑکیاں اور لڑکے قید خیال کرتے ہیں۔جس کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ وہ اس کو حمد کا موجب قرار نہیں دیتے۔ایسا عقیدہ رکھنے والا انسان نکاح کی تقریب پر الحمد للہ کہنے کا مستحق نہیں اور اگر وہ کہتا ہے تو منافقت سے کام لیتا ہے۔جب تک کوئی شخص اس عقیدہ کا پیرو نہ ہو اور اسے دل سے تسلیم کرنے والا نہ ہو کہ نکاح اللہ تعالٰی کی برکات میں سے ایک برکت ہے اور اس کی رحمتوں میں سے ایک بڑی رحمت ہے اور اللہ تعالیٰ کے قائم کئے ہوئے نظام کی تکمیل کا ذریعہ ہے اور اللہ تعالی کے فضل کو ہم پر نازل کرنے کا ایک سبب ہے اس وقت تک کوئی انسان سچے دل سے یہ الفاظ نہیں کہہ سکتا۔پھر دوسرا حصہ جو نَحْمَدُ ؛ کا ہے کہ ہم حمد کرتے ہیں اس کے خلاف بھی بہت سے لوگ دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ہزار ہا لوگ ایسے ہیں جو شادی کرتے وقت بھی انصاف اور محبت کی بنیاد رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔وہ شادیاں کرتے ہیں مگر ان کی نیتوں اور ارادوں میں کبھی دو سروں سے بدلہ لینا ہوتا ہے، کبھی فتنہ و فساد کی آگ کو بھڑکانا ہوتا ہے، کبھی گھر کے کام کاج کے لئے ایک نوکر لانا ہوتا ہے اور کبھی اس قسم کے اور نتیح و غلیظ اور خبیث خیالات ان کے دلوں میں پائے جاتے ہیں۔بعض دفعہ ادنی اونی ضرورتوں کو پورا کرنا ان کا مقصد ہوتا ہے، بعض