خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 42

خطبات محمود ۱۲ وعظ و نصیحت کو توجہ سے سننا چاہئے (فرموده ۵ - ستمبر ۱۹۱۹ء) ۵- ستمبر ۱۹۱۹ء کو جمعہ کے دن بعد نماز عصر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے قاضی فضل کریم صاحب بھیروی کی لڑکی امتہ العزیز کا نکاح پڑھا۔خطبہ نکاح سے پہلے حضور نے فرمایا :- اس وقت کھڑا تو میں ایک خطبہ نکاح پڑھنے کی غرض سے ہوا ہوں مگر اس سے پہلے میں ایک اور بات کہنی چاہتا ہوں جو آج ہی میرے دل میں ڈالی گئی ہے۔میں نے بہت دفعہ بیان کیا ہے کہ کسی وعظ یا نصیحت کے سننے سے اس وقت تک کوئی خاص فائدہ نہیں ہو تا جب تک فائدہ اٹھانے کی غرض اور نیت سے اسے نہ سنا جائے۔بہت لوگ سنتے ہیں مگر آخر ان کی وہی حالت ہوتی ہے کہ گویا کچھ سناہی نہیں۔شاید وہ اس بات کو معمولی سمجھتے ہوں لیکن قرآن کریم اس کو نهایت خطرناک بیماری قرار دیتا ہے اور کفار اور منافقین کی صفت بیان کرتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے جب وہ رسول کی مجلس سے باہر نکلتے ہیں تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں ماذا قال لے کیا کہتے تھے حالانکہ خود وہاں بیٹھے ہوتے تھے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ باوجود بیٹھنے کے ان کے خیالات اور طرف لگے ہوتے تھے اور جو کچھ مجلس میں بیان ہو تا اس کی طرف توجہ نہ کرتے تو یہ ایک بہت بڑا نقص ہے جس کی وجہ سے ایسے آدمی کسی صداقت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔جو لوگ توجہ اور غور سے اور فائدہ اٹھانے کی غرض سے سنتے ہیں وہ چھوٹی سے چھوٹی بات سے بھی فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔لیکن جو لوگ فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے وہ سب انبیاء بلکہ ملائکہ سے بھی کچھ