خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 552

خطبات ۵۵۲ جلد سوم خاندان نے ایسے اخلاص کے ساتھ تعلق رکھا اور اسے نباہا ہے کہ اس میں کبھی بھی کمی نہیں آئی۔اللہ تعالیٰ ایسے مخلص کے لئے ذرائع بھی خود مہیا کر دیتا ہے ان کے لڑکوں کی شادیاں بھی ایسے گھرانوں میں ہوئی ہیں جو بہت مخلص ہیں۔محمد اعظم کی شادی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص اور فدائی صحابی حکیم محمد حسین صاحب قریشی موجد مفرح عنبری کی لڑکی سے ہوئی ہے۔قریشی صاحب بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ابتدائی صحابہ میں سے تھے اور ایسے مخلص تھے کہ اللہ تعالٰی نے ہر ابتلاء سے انہیں بچالیا۔جب پہلے پہل خلافت کا جھگڑا اٹھا تو خواجہ صاحب اور ان کے ساتھیوں نے لاہور کی جماعت کو جمع کیا اور کہا کہ دیکھو سلسلہ کس طرح تباہ ہونے لگا ہے یہ حضرت خلیفہ المسیح الاول کی خلافت کا زمانہ تھا جب میر محمد اسحق صاحب نے بعض سوالات لکھ کر دیئے تھے اور آپ نے جواب کے لئے وہ باہر کی جماعتوں کو بھیجوا دیئے تھے۔اس وقت لاہور کی ساری کی ساری جماعت اس پر متفق ہو گئی تھی کہ دستخط کر کے خلیفہ اول کو بھجوائے جائیں کہ خلافت کا یہ طریق احمد یہ جماعت میں نہیں بلکہ اصل ذمہ دار جماعت کی انجمن ہے۔جب سب لوگ اس امر کی تصدیق کر رہے تھے قریشی صاحب خاموش بیٹھے رہے اور کہا کہ میں سب سے آخر میں اپنی رائے بتاؤں گا۔آخر پر ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے بڑے زور سے اس خیال کی تردید کی اور کہا کہ یہ گستاخی ہے کہ ہم خلیفہ کے اختیارات معین کریں ہم نے ان کی بیعت کی ہے اس لئے ایسی باتیں جائز نہیں۔وہ آخری آدمی تھے ان سے پہلے سب اپنی اپنی رائے ظاہر کر چکے تھے مگر ان کے اخلاص کا نتیجہ تھا کہ سب لوگوں کی سمجھ میں یہ بات آگئی اور خواجہ صاحب کے موید صرف وہ لوگ رہ گئے جو ان کے ساتھ خاص تعلقات رکھتے تھے۔اسی طرح میری خلافت کے ابتدائی ایام میں بھی غیر مبائعین سے مقابلہ کرنے میں انہوں نے تندہی سے حصہ لیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان ہی کی معرفت لاہور سے سامان وغیرہ منگوایا کرتے تھے حضور خط لکھ کر کسی آدمی کو دے دیتے جو اسے حکیم صاحب کے پاس لے جاتا اور وہ سب اشیاء خرید کر دیتے گویا وہ لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایجنٹ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی ان سے بہت محبت رکھتے تھے۔لاہور کی احمد یہ مسجد بھی انہی کا کارنامہ ہے دوسروں کا تو کیا کہنا میں خود بھی اس کا مخالف تھا کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ یہ اتنا بڑا بوجھ ہے کہ جو لاہور کی جماعت سے اٹھایا نہ جاسکے گا مگر انہوں نے پیچھے پڑ کر مجھ سے اجازت لی اور ایک بھاری رقم کے خرچ سے لاہور میں ایک مرکزی مسجد