خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 529

۵۲۹ جلد سوم اردو دلی کی ارود سے بہت مختلف ہے اور وہ کہہ رہی تھیں کہ یہ بات نہیں دیہات کے لوگ اس طرح بولتے ہیں شہروں کے اور بالخصوص تعلیم یافتہ لوگ ایسا نہیں کرتے۔یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ یہ دونوں بچے آگئے انہوں نے ہنس کر کہا کہ یہ رشتہ میں میرے دادا ہوتے ہیں مگر یہ بات آہستہ سے کی اس لئے میں سمجھ نہ سکا کہ ان دونوں میں سے رشتہ میں دادا کس سے متعلق کہا گیا ہے یہ دونوں تھوڑی دیر ٹھہر کر چلے گئے۔میاں عبدالرحیم احمد صاحب پہلے واپس ہوئے اور دوسرا لڑکا ان کے ذرا پیچھے تھا کہ میں نے آہستہ سے پوچھا کہ دادا ان میں سے کون سا لڑکا ہے یہ بات اس دوسرے لڑکے نے سن لی اور کہا کہ " وہی تو تھے جو گئے چلے " میں نے سارہ بیگم صاحبہ مرحومہ سے کہا کہ دیکھ لو میری بات کی سند مل گئی۔اپنے رشتہ داروں سے تعلقات بڑھانے کا شوق ہر انسان کو ہوتا ہے اتفاق کی بات ہے کہ سارہ بیگم مرحومہ نے کہیں میاں عبدالرحیم صاحب سے کہا کہ تم شوق اور کوشش سے پڑھو، اگر تم تعلیم میں ترقی کرو گے تو میں کوشش کروں گی کہ امتہ القیوم بیگم اور امتہ الرشید بیگم میں سے کسی کے ساتھ تمہارا نکاح ہو جائے۔اور یہ عجیب اتفاق کی بات ہے کہ ان کی بات جو اس وقت شاید محض نہی میں کی گئی تھی آج پوری ہو رہی ہے اور آج میں اپنی لڑکی امتہ الرشید بیگم کے ساتھ ان کے نکاح کا اعلان کر رہا ہوں یہ علی گڑھ میں ایم۔اے میں پڑھتے ہیں۔اس کے بعد حضور نے ایجاب و قبول کرایا۔میاں حمید احمد صاحب اٹھے تو ان کے گلے میں پھولوں کے بہت سے ہار تھے مگر میاں عبدالرحیم احمد صاحب کے محلے میں کوئی نہ تھا حضور نے کی میاں حمید احمد صاحب کو مخاطب کر کے بزبان پنجابی فرمایا کہ میاں عبدالرحیم احمد کے گلے میں بھی ہار ڈال دو ان کے یہاں کوئی رشتہ دار نہیں ہیں جو ان کو بھی ہار ڈالتے اس فقرہ کا سننے والوں پر بہت اثر ہوا۔میاں حمید احمد صاحب نے اپنے ہار ان کے گلے میں ڈال دیئے اور بعض دوسرے احباب نے بھی ڈالے۔) له الفضل ۲۴ مارچ ۱۹۴۰ء صفحه ا الفضل ۱۴ فروری ۱۹۴۱ء صفحه ۱ تا ۳)