خطبات محمود (جلد 3) — Page 473
محمود جلد سوم نہیں تو آپ کی کس طرح سفارش کر دوں۔کہتے ہیں اس پر وہ کچھ بولا نہیں اور چپ کر کے چلا گیا شکل سے میں نے سمجھا کہ اس نے میرے جواب کو ناپسند کیا ہے مگر میں نے کہا خیر میں بھی مجبور ہوں۔اس واقعہ پر ایک عرصہ گزر گیا اور درمیاں میں اس نے کبھی اس کا مجھ سے ذکر نہ کیا لیکن جب دوبارہ الیکشن کا وقت آیا تو دوستوں کی طرف سے مجھے رپورٹ پہنچی کہ وہ شخص جس نے گزشتہ الیکشن کے موقع پر آپ کی خاص طور پر مدد کی تھی اب کچھ بگڑا بیٹھا ہے۔آپ اس کے پاس چلیں اور اسے بھی ووٹ دینے پر آمادہ کریں۔چنانچہ وہ کہتے ہیں میں اور بعض معزز دوست اس کے مکان پر گئے وہ اس وقت اپنے صحن میں بیٹھا تھا۔اس نے ہمارے لئے موڑھے بچھا دیئے مگر منہ دوسری طرف کر لیا اور حقہ کے کش لگانے شروع کر دیئے۔دوستوں نے اسے کہا کہ چوہدری صاحب ہم آپ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئے ہیں کہ اب الیکشن ہو رہا ہے آپ اپنے زیر اثر لوگوں کو تحریک کریں کہ وہ ان صاحب کو ووٹ دیں۔وہ کہتے ہیں یہ بات سن کر اس نے پھر بھی ہماری طرف منہ نہ کیا اور اسی طرح حقہ کا کش لگاتے ہوئے کہا سانوں اس نال کی " یعنی ہمیں اس سے کیا غرض ہے وہ کہنے لگے نہیں یہ بڑے لائق آدمی ہیں انہیں ضرور ووٹ دلائیں۔اس پر اس نے جواب تک نہ دیا اور منہ برابر دوسری طرف کئے رہا۔آخر میں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایک کام کے لئے میرے پاس آئے تھے جسے میں کر نہیں سکتا تھا معلوم ہوتا ہے ان کی طبیعت پر اس بات کا اب تک اثر ہے۔دوستوں نے کہا یہ ! کون سی بڑی بات ہے مگر اس نے منہ پھر بھی نہ پھیرا اور کہنے لگا کر میں انہاں دا ویلا۔کریں ساڈ اویلا " وہ کہتے ہیں یہ بات سنتے ہی پھر ہم وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور چلے آئے۔یہی بات اللہ نے اس جگہ بیان فرمائی ہے فرماتا ہے۔وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِه والارحام ، کہ دیکھو اپنے رشتہ داروں کا لحاظ رکھا کرو اور یہ سمجھ لو کہ اگر اس وقت وہ غریب ہیں اور تم امیر تو ممکن ہے کل باری بدل جائے اور تم غریب ہو جاؤ اور وہ امیر۔پھر جو بعد میں پنے رشتہ داروں کے آگے ہاتھ جوڑنے ہیں تو کیوں ابھی سے صلح صفائی سے نہیں رہتے اور پھر اِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيباً کہہ کر ایک اور سبق دیا۔کہ معاملات کے وقت ذرا اوپر بھی نگاہ اٹھا لیا کرو۔یہ کتنے لطیف نکتے ہیں جو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ اگر بنی نوع انسان ان کو اپنے مد نظر رکھیں تو لڑائی جھگڑے ہو سکیں۔ایک تو وہ اس نکتہ کو