خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 33

ات محمود هم السلام اسے پڑھنے کا نیا نیا شوق ہوتا ہے اور نئی نئی باتیں سیکھتا ہے اس لئے گھر میں آکر وہی کھلائیاں یا رشتہ دار عورتیں جو اس کی حرکات پر ہنسا کرتی تھیں ان سے باتیں کرتا ہے اور پوچھتا ہے اچھا بتاؤ امریکہ کے بڑے بڑے شہر کون سے ہیں؟ وہ نہایت تعجب اور حیرت سے پوچھتی ہیں۔امریکہ کیا ہے؟ پھر وہ پوچھتا ہے اچھا بتاؤ پنجاب کے دریاؤں کے منبع کہاں کہاں ہیں ؟ امریکہ تو خیر ایک اجنبی لفظ تھا لیکن پنجاب کو تو وہ جانتی ہیں اور دریاؤں کو بھی دیکھا یا سنا ہوتا ہے مگر منبع کا لفظ انہیں بہت عجیب و غریب معلوم ہوتا ہے کیونکہ ان کا تو خیال ہوتا ہے کہ منبع کیا چیز ہے؟ دریا یونہی چلے آرہے ہیں۔پھر کبھی ان سے جب پوچھتا ہے دریا شروع میں کتنے چوڑے ہیں تو ان کی سمجھ میں ہی یہ نہیں آسکتا کہ دریا کا شروع بھی ہوتا ہے اور چھوٹا دریا بڑا بن جاتا ہے۔وہ سمندر کا حال پوچھتا ہے کہ کتنا بڑا ہوتا ہے اور کس قدر گہرا ہوتا ہے ؟ اس پر تو ان کی وہی حالت ہوتی ہے جو کنویں کے مینڈک کی بیان کی جاتی ہے کہ ایک دریا کا مینڈک کنویں میں آگیا کنویس کے مینڈک نے اس سے پوچھا۔آپ کا ملک کتنا بڑا ہے؟ اس نے کہا بہت وسیع۔کنویں کے مینڈک نے ایک چھلانگ مار کر کہا کیا اتنا بڑا ہے۔اس نے کہا اس کی تو اس کے مقابلہ میں کچھ حقیقت ہی نہیں ہے۔پھر اس نے ایک اور چھلانگ ماری اور کہا کہ کیا اتنا بڑا ہے۔اس پر اس نے کہا نہیں بہت بڑا۔کنویں کے مینڈک نے دو تین اکٹھی چھلانگیں مار کر کہا کیا اتنا بڑا ہے۔اس نے کہا میں نے کہہ جو دیا ہے بہت بڑا ہے تم کیوں بیہودہ طور سے اس کا اندازہ لگاتے ہو۔(یہ مینڈک کا تو یونہی قصہ ہے دراصل بڑے اور چھوٹے علم والے انسانوں کا موازنہ کیا گیا ہے) اس پر وہ روٹھ کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا تم بڑے جھوٹے ہو۔میں تم سے بات نہیں کرنا چاہتا۔یہ تو ایک قصہ ہے۔ایک سچا واقعہ سناتا ہوں۔گزشتہ سال جب ہم ہمبئی گئے تو ہمارے ساتھ بچہ کھلانے والی ایک لڑکی تھی۔ایک دن سمندر کی سیر کرنے جارہے تھے اور وہ بھی ساتھ تھی۔ابھی سمندر نہیں آیا تھا کہ اس نے پوچھا سمندر کہاں ہے؟ میں نے کہا ابھی آجاتا ہے جب ہم سمندر کے کنارے پہنچ گئے تو اسے بتایا کہ یہ سمند ر ہے۔وہ دیکھ کر بے اختیار کہنے لگی میں سمجھیا بڑا اور چاہو دے گا ایسہ نے بکھر یا پیا ہے، یعنی میں نے سمجھا تھا بڑا اونچا ہو گا۔یہ تو پھیلا ہوا ہے۔اس کے یہ الفاظ مجھے خوب اچھی طرح یاد ہیں۔اس نے اپنے علم کے مطابق جو نقشہ کھینچا ہوا تھا جب وہ نہ دیکھا تو حیران سی ہو گئی۔غرض جب وہ بچہ مختلف باتیں دریافت کرتا ہے تو وہی عورتیں جو اس کی بات بات پر ہنسا