خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 446

خطبات محمود لسمسم جلد سوم 109 ازدواجی تعلقات کے نتیجہ میں جذبہ محبت ترقی کرتا ہے فرموده ۱۵- دسمبر ۱۹۳۷ء) ۱۵- دسمبر ۱۹۳۷ ء حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔اے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- نکاحوں کو اللہ تعالیٰ نے انسانی تمدن کی ترقی کا ذریعہ بنایا ہے۔ہمارے ملک میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ فلاں شیر و شکر ہو گئے یعنی جس طرح کھانڈ دودھ میں ملا دی جاتی ہے اور بعد میں پہچانی نہیں جاتی گو وہ دودھ کے اندر ہی ہوتی ہے سوائے اس کے کہ کھانڈ زیادہ مقدار میں ملا دی جائے تو تھوڑی سی کھانڈ دودھ کے نیچے بیٹھ جائے گی اسی طرح انسان آپس میں مل جاتے اور شیر و شکر ہو جاتے ہیں۔دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کئی چیزیں ہیں جو آپس میں مل جاتی ہیں کئی ہیں جو آپس میں نہیں ملتیں۔بعض شکل کے لحاظ سے آپس میں نہیں ملتیں، بعض کام کے لحاظ سے سے آپس میں نہیں ملتیں، بعض رنگ کے لحاظ سے آپس میں نہیں ملتیں، بعض سیال چیزیں آپس میں مل جاتی ہیں۔مثلاً بعض خشک چیزیں سیال چیزوں کے ساتھ مل جاتی ہیں۔مثلاً دودھ سیال چیز ہے اور کھانڈ سیال نہیں بلکہ خشک چیز ہے۔یہ دونوں آپس میں مل جاتی ہیں۔لیکن بعض سیال چیزیں آپس میں نہیں ملتیں۔مثلاً پانی اور تیل یہ دونوں سیال چیزیں ہیں مگر آپس میں نہیں ملتیں ان کو ایک دوسرے میں ملا دیا جائے تو علیحدہ علیحدہ ہو جائیں گی پانی علیحدہ ہو جائے گا اور تیل علیحدہ۔پھر کہیں ذرات کا فرق پڑ جاتا ہے، کہیں بوجھوں کا فرق پڑ جاتا ہے، کہیں سیال چیزوں کے