خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 26

خطبات محمود ۲۶ جلد سوم چاہئے کہ اصل برکت قرآن کریم کی اتباع میں ہوتی ہے۔قرآن کریم کے احکام کے خلاف کیا ہوا کام خواہ کسی مقام پر ہو اور کسی انسان کے ذریعہ کرایا جائے کبھی بابرکت نہیں ہو سکتا حتی کہ اگر قرآن کریم کی ہدایات کے خلاف کرتے ہوئے دھوکا دے کر رسول کریم ال سے بھی نکاح پڑھوایا جاتا تو وہ بھی با برکت نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ رسول کریم ﷺ کا وہی فعل با برکت ہو سکتا تھا جو اللہ تعالی کے بتائے ہوئے احکام اور قواعد کے ماتحت ہو۔اگر کوئی آپ کو دھوکا دے کر اور قریب سے کام کراتا یا اپنے حق میں فیصلہ لے لیتا تو اس میں بھی برکت نہ ہوتی۔اور یہ بات میں نہیں کہتا بلکہ وہی پاک اور مطہر انسان فرماتا ہے چنانچہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ تم میں سے دو شخص میرے پاس کوئی جھگڑا لا ئیں اور ان میں سے ایک لسان اور طرار ہو اور میرے سامنے اپنی بات ایسے رنگ میں پیش کرے کہ میں دھوکا میں آکر اس کے حق میں فیصلہ دے دوں حالانکہ اس کا حق لینے کا نہ ہو تو وہ سمجھنے کہ میں اپنے گھر جنم کا حصہ لے آیا ہوں۔لے پس جب آنحضرت ا کسی ایسے فیصلہ کے متعلق جو آپ کو دھوکا دیکر کرایا جائے یہ فرماتے ہیں تو اور کون انسان ہے جس سے قرآن کریم کی ہدایات کے خلاف دھوکا دے کر کوئی کام کرایا جائے اور وہ بابرکت ہو اس لئے وہی نکاح با برکت ہو سکتا ہے جو خدا تعالٰی کے بتائے ہوئے احکام اور قواعد کے ماتحت ہو۔میں تو ایک کمزور انسان ہوں اور آنحضرت ا کے غلاموں کی فہرست میں اپنا نام آنا نجات کا باعث سمجھتا ہوں۔مگر وہ جو خدا تعالٰی کے پیارے اور محبوب تھے اور تمام نبیوں کے سردار تھے جن کی ایک نظر ہمارے لئے دونوں جہانوں کا بھلا کرنے کا باعث ہو سکتی ہے وہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی قرآن کریم کے احکام کے خلاف دھوکا دے کر مجھ سے کام کرالے تو اس میں بھی برکت نہیں ہوگی بلکہ وہ جنم کا ٹکڑا ہو گا جو اس کے لئے مصیبت اور دکھ کا باعث ہو گا۔پس ہمارے دوست جہاں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان کے نکاح قادیان میں پڑھے جائیں اور میں ان کے نکاح پڑھوں وہاں ان کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ان کے نکاح قرآن کریم کے بتائے ہوئے احکام کے ماتحت ہوں۔جب وہ ایسا کریں گے تو ان کے نکاحوں میں خدا کے فضل اور رحم کے ماتحت زیادہ برکت ہوگی۔قرآن کریم کے ان احکام کو جو نکاح کے متعلق ہیں تفصیلی طور پر بیان کرنے کا یہ موقع نہیں کیونکہ مجھے ابھی تقریر کرنی ہے وہ رہ جائے گی۔اور پھر بہت دفعہ بیان بھی کئے جاچکے ہیں۔ہاں ایک بہت ضروری بات ہے وہ بیان کئے دیتا ہوں۔