خطبات محمود (جلد 3) — Page 370
٣٧٠ آرہی ہے مگر حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا دیکھو اس کے دانت کتنے صاف اور چمکیلے ہیں۔گویا مرے ہوئے کتے کے متعلق بھی ان کی نظر خوبی پر ہی پڑی۔تو روحانیت اور نیکی انسان کو خوبیوں کی طرف متوجہ کرتی ہے مگر وہ شخص جس میں مذہبی نیکی نہ ہو اس کی نگاہ نقائص پر پڑتی ہے اس طرح کمزور آدمی اگر اپنی بیوی کے نقائص پر نظر رکھے اور اس کی خوبیاں نہ دیکھے تو یہ ایک مصیبت ہو گی جو رات دن ان کو جھیلنی پڑے گی۔ایک طرف خاوند اگر یہ کہے گا کہ گھر میں کھانا اچھا نہیں پکتا، برتنوں کی صفائی نہیں ہوتی تو دوسری طرف عورت کے گی کہ مجھے کافی اخراجات نہیں دیئے جاتے جس سے میں اپنے گھر کا انتظام درست رکھ سکوں غرضیکہ کئی قسم کی باتیں طرفین سے ہوتی رہیں گی۔بعض آدمی اس سے تنگ آکر اپنی بیوی کے عیوب کی طرف سے لا پروائی اور غفلت اختیار کر لیتے ہیں جس سے بے حیائی پیدا ہوتی ہے اور بعض لوگ گھر کی ضروریات اور بچوں کی تربیت سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں مگر یہ دونوں صورتیں نقصان دہ اور مضر ہیں اور ان سے روکنے کے لئے اسلام نے ایک ذریعہ بتایا ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے مطیع اور فرماں بردار ہو جاؤ۔اب رہا یہ سوال کہ اللہ اور رسول نے کیا بتایا ہے ؟ وہ یہ ہے کہ میاں بیوی کے تعلقات کی بنیاد تقویٰ پر ہونی چاہئے۔کسی شاعر نے کہا ہے۔خشت اول چون Ü ثریا رور نهد معمار کج دیوار سج لیکن اگر انسان ابتداء ہی میں رسول کریم ﷺ کی تعلیم عَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ - له پر عمل کرے تو وہ اپنے گھر کو جنت بنا سکتا ہے۔اچھے آدمی کی اولاد بھی اچھی پیدا ہوتی ہے۔الا ما شاء اللہ۔اور میاں بیوی کے تعلقات کی بنیاد تقویٰ پر ہو تو نتیجہ ہمیشہ نیک ہو گا۔دوسری بات یہ ہے کہ شریعت نے اپنی عقل کے علاوہ خدا تعالیٰ پر معاملہ سپرد کر دینے کو کہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دینے سے نتیجہ لازماً اچھا نکلتا ہے۔مثلاً استخارہ ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ انسان یہ عہد کرنے کہ اگر خدا نے فلاں رشتہ پر شرح صدر نہ کیا تو نہیں کریں گے۔اگر یہ عہد نہ کیا جائے تو استخارہ استخارہ نہیں کہلا سکتا۔میرے پاس کئی ہندو اور سکھ آتے ہیں اور کہتے ہیں ایسی تدبیر بتا ئیں جس سے اسلام کی صداقت کا آسانی سے پتہ لگ جائے۔میں ان سے کہا کرتا ہوں کہ وہ تدبیر جو آسان ہے استخارہ -