خطبات محمود (جلد 3) — Page 355
خطبات محمود ۳۵۵ جلد سوم لِلإِيمَانِ اَنْ مِنُوا بِرَتِكُمْ فَا مَنَا رَبَّنَا فَاغْفِرُ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ ، رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدَتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيمَةِ ، إِنَّكَ DOWNTOWN TALAGE DAWN NE کے اس تعلیم کو اپنے دل میں پیدا کرو یہاں تک کہ تمہارا ذرہ ذرہ اس تعلیم پر لبیک کہہ اٹھے۔پھر اپنی اولادوں کے کانوں میں یہ تعلیم ڈالو اور وہ اپنی اولادوں کے کانوں میں ڈالیں یہاں تک کہ ہمارے کانوں میں سوائے خدا کی آواز کے اور کوئی آواز نہ گونجے۔ہماری آنکھوں میں سوائے اس نور کے اور کوئی نور نہ چھکے۔جب تک یہ حالت پیدا نہیں ہوتی ہم مٹی کے بت ہیں جو بڑے بڑے کام کرنے کا دعوی کرتے ہیں مڑے ہوئے مردار ہیں جو دنیا کو زندہ کرنے کے مدعی بنتے ہیں۔میں اس کے بعد ان نکاحوں کا اعلان کرتا ہوں جن کے لئے یہ اجتماع کیا گیا ہے گو بظاہر اس خطبہ کا نکاح کے ساتھ کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا لیکن حقیقی طور پر اس کا نکاح کے ساتھ گہرا تعلق ہے کیونکہ حقیقت زوجیت خدا تعالی کے تعلق میں ہی ہے یہی وجہ ہے کہ خدا تعالی شادیوں کے ذکر میں نمازوں کا خصوصیت سے ذکر کرتا ہے۔اگر ہم دنیا میں زوجیت کا تعلق قبول کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں خدا اور اس کے رسول کی محبت میں سرشار رہتا ہمیں گوارا نہ ہو اور حقیقی خوشی تو اس وقت تک ہمیں حاصل نہیں ہو سکتی جب تک اسلام دنیا میں قائم نہیں ہو جاتا۔اس وقت تک دنیا کی خوشیاں بھی ہمیں غم میں جتلاء کر دیں گی۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے متعلق لکھا ہے وہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد ایک دفعہ میدہ کی روٹی کھارہی تھیں کہ ان کے آنسو بہنے لگ گئے۔کسی نے پوچھا آپ کیوں روتی ہیں۔انہوں نے کہا رسول کریم ﷺ کے وقت پکیاں نہیں ہوتی تھیں ہم سل بٹہ پر دانے کوٹ لیتے اور بھوسی پھونک سے اڑا کر آٹا گوندھ کر روٹی پکا لیتے۔اب میدہ کی روٹی میرے گلے میں پھنس رہی ہے اور مجھے خیال آتا ہے کہ اگر رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں میدہ ہو تا تو میں آپ کو اس کی روٹی پکا کر کھلاتی۔جے ایک میدہ کی روٹی کتنی حقیر چیز ہے مگر حضرت عائشہ کے گلے میں وہ بھی پھنس گئی اس لئے کہ انہیں رسول کریم ال کا وقت یاد آگیا۔پھر کیا دنیا کی تمام نعمتیں ہمارے گلے میں نہیں پھنسنی چاہئیں۔دنیا کی نعمتیں اور حکومتیں کس کے لئے ہیں؟ یہ سب خدا اور اس کے رسول کے لئے اور اس کے شاگرد کامل مسیح موعود کے لئے ہیں۔پھر کیوں نہ ہم ان سب نعمتوں کو لا کر خدا اور اس کے رسول کے قدموں میں ڈال دیں۔حضرت