خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 354

خطبات محمود ۳۵۴ جلد سوم سنا تو وہ رو پڑا اور ان سے یہ عہد لیا کہ آئندہ کسی نو عمر کو بھکشو نہ بنائیں۔تو اللہ تعالیٰ کے دین کے متعلق جو کام ہمارے ذمہ ہے وہ اتنا عظیم الشان ہے اور اس کی ذمہ داری اتنی وسیع ہے کہ میں افسوس کرتا ہوں ہمارے دل ابھی اس کا اندازہ نہیں کر سکے۔میں دیکھتا ہوں جو لوگ دین کی خدمت بھی کرتے ہیں وہ خیال کرتے ہیں کہ گویا انہوں نے قربانی کی حالانکہ قربانی ہمیشہ اعلیٰ چیز کہلاتی ہے۔اگر دین کے لئے کام کرنا قربانی ہے تو گویا دین اونی ہے مگر ان کا درجہ اس سے بلند ہے۔یہ احساس اگر ایک لمحہ کے لئے بھی ہمارے اندر رہتا ہے کہ ہم دینی کام کر کے قربانی کرتے ہیں تو یقیناً ہم ایمان سے بے بہرہ اور نابینا ہیں۔پس پہلے تو میں ان سے جنہیں خدا کے رسول نے آواز دی اور کہا کہ لناله رجال من فارس کہتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو سمجھیں ان کے سامنے ایک بہت بڑا کام ہے۔دنیا کی عزتیں اور دنیا کی بڑائیاں کوئی چیز نہیں خدا کے در کی غلامی سب سے زیادہ عزت والی چیز ہے۔اگر تم دنیا کماؤ بھی اور سبھی کچھ بن جاؤ تو کیا محمد ﷺ کے خدام سے تمہاری عزت بڑھ سکتی ہے پھر ان نشانات کو دیکھو جنہوں نے دور دور کے اندھوں کو روشنی بخش دی جس سے یورپ اور امریکہ کے نابینا بینا ہو گئے اگر پاس والے اللہ تعالٰی کے اس نور سے فائدہ نہ اٹھا ئیں تو کس قدر افسوس ناک بات ہوگی۔پس پہلے تو میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جسمانی اولاد کو مخاطب کرتا ہوں لیکن چونکہ ہر شخص جو کچے دل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرتا اور آپ کے اوامر پر کاربند ہوتا ہے آپ کی روحانی اولاد میں داخل ہے اس لئے روحانی طور پر تمام جماعت احمد یہ رجال فارس میں داخل ہے پس روحانی اولاد ہونے کی نسبت سے میں باقی تمام جماعت سے بھی کہتا ہوں کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو۔کب تک یہ غفلت شعاریاں چلی جائیں گی، کب تک تمہارے چہروں پر مردنیاں چھائی رہیں گی، کب تک خدا تعالیٰ کے دین کو تحقیر اور تذلیل کی نگاہ سے دیکھا جائے گا اور تم خاموش رہو گے، کب تک تم اپنی حقیر خدمات کو قربانیاں قرار دو گے، کب وہ دن آئے گا کہ تم دین کے لئے بیتاب ہو جاؤ گے اور کب وہ دن آئے گا کہ تم کمر ہمت باندھ کر اس کام کے لئے میدان عمل میں نکل کھڑے ہوگئے جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں مبعوث ہوئے۔پس میں انہیں بھی کہتا ہوں کہ خدا کی ایک آواز بلند ہوئی ہے اٹھو اور اس آواز کو سن کر وہی کہو جو تم سے پہلے راست بازوں نے آج سے تیرہ سو سال پہلے کہا تھا کہ رَبَّنَا إِتْنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِى