خطبات محمود (جلد 3) — Page 343
س سوم سر اٹھا۔صحابہ نے اس وقت جو نمونہ دکھایا وہ تاریخ کی کتابوں میں آج تک لکھا ہے رسول کریم ایک جنگ میں جو فتح مکہ کے بعد ہوئی شامل ہوئے وہ لوگ جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے تھے اور ابھی ایمان ان کے دلوں میں پوری مضبوطی سے قائم نہیں ہوا تھا وہ اور ان کے علاوہ کچھ کا فر رسول کریم ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا۔یا رسول اللہ ! ہمیں بھی اس لشکر میں شامل ہونے کی اجازت دیجئے جس نے ہوازن کا مقابلہ کرنا ہے۔رسول کریم نے انہیں شامل ہونے سے روکا مگر جب انہوں نے زیادہ اصرار کیا تو آپ نے شامل ہونے کی اجازت دے دی۔دس ہزار کا لشکر تو وہ تھا جس نے مکہ فتح کیا تھا اور دو ہزار یہ لوگ تھے۔کہ گویا دس بارہ ہزار کا لشکر میدان جنگ میں چل پڑا۔جس وقت ہوازن کے قریب پہنچے تو وہاں ایک درہ تھا جس کے گرد طائف کی اقوام نے اپنے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے اور اچھے ہوشیار تیرانداز سڑک کے دونوں طرف چل پڑے تھے۔صحابہ کا دس ہزار کا لشکر وہ تھا جس کا ایک ایک شخص کئی کئی کفار کا مقابلہ کر چکا تھا اور اس لحاظ سے ہوازن کا مقابلہ ان کے لئے مشکل نہیں تھا لیکن اب دو ہزار کمزور ایمان والے بھی ان میں شامل ہو گئے تھے۔ایسے لوگ ان میں شامل ہو گئے تھے جن کے دلوں میں کبر اور غرور موجود تھا اور جو ایک دوسرے کی طرف دیکھ دیکھ کر کہتے تھے کہ یہ مدینہ والے لڑائی کیا جائیں اور پھر وہ اپنے ساتھیوں کو آواز دیتے ہوئے کہتے اے مکہ والو! آج جرات اور شجاعت دکھانے کا دن ہے۔اس غرور اور تکبر کی حالت میں جونہی وہ تیر اندازوں کی زد میں پہنچے ہوازن کے تجربہ کار تیر اندازوں نے بے تحاشا ان پر تیروں کی بارش شروع کر دی۔یہ دیکھتے ہی ان کی ساری بہادری جاتی رہی اور وہ ڈر کر میدان جنگ سے بھاگ نکلے۔دو ہزار گھوڑوں کا صفوں کو چیرتے ہوئے گزرنا کوئی معمولی امر نہیں تھا نتیجہ یہ ہوا کہ باقی دس ہزار آدمیوں کے گھوڑے بھی برک گئے اور بے تحاشا بھاگنے لگ گئے یہاں تک کہ صرف بارہ آدمی رسول کریم ﷺ کے پاس رہ گئے۔اسلامی لشکر اس کا وقت کسی بزدلی کی وجہ سے میدان جنگ سے نہیں بھاگا بلکہ اس لئے بھاگا کہ دو ہزار گھوڑوں کے بھاگنے نے ان کے گھوڑوں کو مرعوب کر دیا اور وہ بھی میدان میں ٹھہر نہ سکے۔ایک صحابی کا بیان ہے ہم اپنے گھوڑوں کو روکنے کے لئے ان کی باگیں کھینچتے اور اتنے زور سے کھینچتے کہ ان کی گردنیں ٹیڑھی ہو جاتیں مگر جونہی باگ ڈھیلی ہوتی وہ پھر بھاگ پڑتے۔ہم حیران تھے کہ کیا کریں۔اتنے میں رسول کریم ﷺ نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور دشمن کی طرف بڑھنا )