خطبات محمود (جلد 3) — Page 337
خطبات محمود جلد سوا سورج دکھاؤ یا دریا موجیں مار رہا ہو تو کون کہہ سکتا ہے کہ مجھے دریا دکھا دو وہ تو ہر شخص کو نظر آرہا ہوتا ہے۔پس اگر کوئی شخص دنیا میں وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ کا منظر ہو جائے تو کوئی شخص یہ سوال نہیں کر سکتا کہ مجھے خود خدا د کھاؤ کیونکہ اس کا وجود ہی خدا تعالٰی کی صفات کا مظہر ہوتا ہے اور اس کی تمام صفات اس کے اعمال سے پھوٹ پھوٹ کر نکل رہی ہوتی ہیں۔بہر حال یہ مقصد اور غرض ہے جس کے لئے خدا تعالیٰ نے ہر انسان کو پیدا کیا اور اس مقصد کے حصول کے لئے پہلا انسان جسے ذمہ دار قرار دیا گیا قرآن مجید میں اسے آدم کے نام سے موسوم کیا ہے۔حضرت آدم ظاہر ہوئے اور انہوں نے دنیا میں خدا تعالیٰ کے وجود کو ظاہر کرنے کی پوری کوشش کی۔وہ لوگ جن کی ہستیاں اور جن کے آرام اور تعیش خدا تعالی کے وجود کے ظاہر ہونے سے خطرے میں پڑتے تھے انہوں نے حضرت آدم کا مقابلہ کیا اور طرح طرح سے اس نور کو چھپانے کی کوشش کی جو دنیا میں حضرت آدم کے ذریعہ ظاہر ہوا لیکن وہ مخالف اپنی کوششوں میں ناکام رہے۔اور آدم نے جس قدر اس زمانہ میں مقدر تھا خدا تعالی کا نور ظاہر کیا۔آدم کا زمانہ گزرا تو حضرت نوح کا زمانہ آیا اس وقت بھی دنیا نے پوری کوشش کی کہ وہ خدا تعالٰی کے نور کو کسی طرح چھپا دے لیکن دنیا کامیاب نہ ہوئی اور خدا تعالٰی نے اپنے جلالی نشانوں کے ذریعہ دنیا میں پھر عبودیت قائم کی پھر اللہ تعالی کے عبد دنیا میں نظر آنے لگے۔اس کے بعد شیطان نے پھر زور پکڑا اور ابراہیمی زمانہ تک حضرت نوح کے تمام آثار کو اس نے اپنی دانست میں مٹادیا تو خدا نے حضرت ابراہیم کے ذریعہ پھر دنیا میں اپنا نور قائم کیا اور خدا کے عبد نظر آنے لگے لیکن ابراہیمی نور بھی آخر مدھم پڑ گیا اور خدا کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شکل میں اپنا نور ظاہر کرنا پڑا۔حضرت موسیٰ کے بعد خدا تعالٰی نے نبیوں کا سلسلہ تواتر کے ساتھ شروع کر دیا یہاں تک کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا زمانہ آیا اور خدا تعالی کا وجود جس کا اثر دلوں پر نہایت ہی کمزور ہو گیا تھا پھر اپنی عظمت کے ساتھ دنیا میں نظر آنے لگا۔لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد ان کے سلسلہ میں بھی کمزوری پیدا ہوئی پھر اللہ تعالیٰ کے نور کی روشنی مدھم پڑ گئی پھر شیطان نے اپنا سر اٹھایا تب خدا تعالیٰ نے اس آخری نور کو جو ہدایت اور راہ نمائی کا آخری سرچشمہ تھا یعنی محمد مصطفی اللہ کی ذات مبارکہ کو دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث فرمایا۔رسول کریم اے کو دشمنان دین حق کا مقابلہ جس تختی کے ساتھ کرنا پڑا اور جن تکالیف