خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 327

خطبات محمود ۳۲۷ جلد سوم لے گئے اور وہاں کچھری کی چھوٹی سی ملازمت پر کئی سال تک رہے۔ان ہی ایام میں حکیم حسام الدین صاحب سے تعلقات ہوئے اور آخر وقت تک تعلقات قائم رہے۔یہ تعلقات صرف ان ہی کے ساتھ نہ رہے بلکہ ان کے خاندان کے ساتھ بھی رہے ان کے بعد میر حامد شاہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سلسلہ میں خاص لوگوں میں شمار ہوتے رہے تاہم حکیم حسام الدین صاحب کے ساتھ جو ابتداء کے تعلقات تھے اس مثال سے ان کی خصوصیت نظر آتی ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دعوئی کے بعد سیالکوٹ تشریف لے گئے حکیم حسام الدین صاحب کو آپ کے تشریف لانے کی بہت خوشی ہوئی۔انہوں نے ایک مکان میں ٹھہرانے کا انتظام کیا لیکن جس مکان میں آپ کو ٹھہرایا گیا اس کے متعلق جس معلوم ہوا کہ اس کی چھت پر منڈیر کافی نہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سیالکوٹ سے واپسی کا ارادہ فرمالیا اور اس وقت میرے ذریعہ ہی باہر مردوں کو لکھ دیا کہ کل ہم واپس قادیان چلے جائیں گے نیز یہ بھی بتلا دیا کہ یہ مکان ٹھیک نہیں کیونکہ اس کی چھت پر منڈیر نہیں۔اس خبر کے سننے پر احباب جن میں مولوی عبد الکریم صاحب وغیرہ تھے راضی لقضاء معلوم دیتے تھے لیکن جونہی حکیم حسام الدین صاحب کو معلوم ہوا تو انہوں نے کہا کس طرح واپس جاتے ہیں چلے تو جائیں اور فوراً زنانہ دروازہ پر حاضر ہوئے اور اطلاع کرائی کہ حکیم حسام الدین حضرت صاحب سے ملنے آئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فور ابا ہر تشریف لے آئے۔حکیم صاحب نے کہا مجھے معلوم ہوا ہے کہ حضور اس لئے واپس تشریف لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ یہ مکان مناسب نہیں۔مکان کے متعلق تو یہ ہے کہ تمام شہر میں سے جو مکان بھی پسند ہو اسی کا انتظام ہو سکتا ہے۔رہا واپس جانا تو کیا آپ اس لئے یہاں آئے تھے کہ فورا واپس چلے جائیں اور لوگوں میں میری ناک کٹ جائے اس بات کو ایسے لب ولہجہ میں انہوں نے ادا کیا اور اس زور کے ساتھ کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام بالکل خاموش ہو گئے اور آخر میں کہا اچھا ہم نہیں جاتے۔ان کے بعد میر حامد شاہ صاحب نے احمدیت کا اعلیٰ نمونہ دکھلایا اور آخری وقت تک وہ نہایت مخلص رہے۔خلات ثانیہ کے ابتداء میں کچھ عرصہ انہوں نے بیعت نہ کی تھی اس کی یہ غرض بیان کی کہ وہ لوگ جو پیغامیوں کے ساتھ زیادہ میلان رکھتے تھے ان کو اس طرف لانے کی کوشش کریں لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ وہ حد سے زیادہ گزر گئے تو پھر خود نہایت عجز و