خطبات محمود (جلد 3) — Page 312
خطبات محمود جلد موم غرض نکاح اثرات کے لحاظ سے جتنی وسعت رکھتا ہے اور بہت کم ایسی چیزیں ہوتی ہیں جیسے مذہب اور حکومتوں کے معاہدات۔مگر جو معاملات گھروں میں ہوتے ہیں ان میں نکاح جیسی مثال نہیں مل سکتی اس وجہ سے شریعت نے اس کے متعلق ہدایات دی ہیں۔خطرات سے بچنے کے طریق اور فوائد کے حصول کے ذرائع بتائے ہیں۔اب وقت اتنا نہیں کہ ان باتوں کی تفصیل بیان کروں اور مختلف خطبات میں بیان کرتا ہی رہتا ہوں۔یہ مضمون استاد سیع ہے کہ کبھی ختم ہی نہیں ہو تا۔قرآن مجید نے جس مضمون کو بھی لیا ہے اسے غیر محدود اور کبھی ختم نہ ہونے والا بنا دیا ہے۔یہ بھی اسلام کی صداقت کا ایک ثبوت ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہے کہ غیر محدود چیز غیر محدود منبع سے ہی نکل سکتی ہے۔بہر حال نکاح کے بارے میں اسلام نے جس بات پر زور دیا ہے وہ اتقاء ہے عام طور پر لوگ اس کے معنے نہیں سمجھتے وہ اتقاء کے معنے یہی کرتے ہیں کہ ڈرو مگر اس کے یہ معنی ہیں کہ ایسا انسان اس مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے کہ یقین اور وثوق سے اپنے معاملات خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں دے دیتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی الہام ہے گو وہ پرانا مصرعہ ہے کہ سپردم بتو ماید خویش را اس حالت میں انسان کلی طور پر اپنے آپ کو خدا تعالٰی کے آگے ڈال دیتا ہے اور اپنے آپ کو بالکل مردہ سمجھ لیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے ایک حیوان کے آگے بھی اگر انسان گر جائے تو وہ اس پر حملہ نہیں کرتا۔پھر خد اتعالیٰ کے آگے جو گر جائے اس پر کیونکر حملہ کیا جائے گا اور اللہ تعالی کے آگے گرنا ہی اصل تقویٰ ہے جب یہ مقام حاصل ہو جاتا ہے تو خدا تعالی خود حفاظت کرتا ہے۔اسی طرح قرآن میں نکاح کے موقع پر تقویٰ حاصل کرنے کا حکم دے کر اشارہ کیا گیا ہے۔الفضل - فروری ۱۹۳۳ء صفحه ۵)