خطبات محمود (جلد 3) — Page 309
جلد سوم ۳۰۹ ۸۳ طاقت سے بڑھ کر خرچ کرنا اسراف میں داخل ہے (فرموده ۱۹۳۱ء) له خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا : سے آج کل لوگ اپنی ناک رکھنے کے لئے زیورات اور دیگر زیب و زینت کے لئے طاقت سے زیادہ روپیہ خرچ کرتے ہیں مگر یہ ان کے لئے انجام کار خوشی کا موجب نہیں ہو تا۔شریعت نے تو صرف صر ٹھرایا ہے۔لوگوں کے پاس روپیہ نقد کم ہوتا ہے۔مہر تو انسان تھوڑا تھوڑا کر کے بھی ادا کر سکتا ہے لیکن زیورات وغیرہ کے لئے انہیں ہندوؤں سے قرض لینا پڑتا ہے۔ہماری جماعت پہلے ہی مالی لحاظ سے کمزور ہے اس لئے انہیں اپنی طاقت سے بڑھ کر خرچ نہیں کرنا چاہئے اگر کسی کے پاس بہت روپیہ ہو تو وہ جتنا چاہے خرچ کرے لیکن جس کے پاس نقد روپیہ موجود نہیں وہ قرض لے کر خوشی کو غمی میں تبدیل نہ کرے۔ناک رکھنے کے لئے روپیہ خرچ کرنا اسرانی میں داخل ہے اور اس طرح انسان کے سارے اعضاء کٹ جاتے ہیں۔بھلا جس کے ہاتھ کٹ جائیں، پاؤں کٹ جائیں اور بدن کٹ جائے اس کی ناک کس کام آئے گی۔پہلے ہی ہماری جماعت مالی لحاظ سے کمزور ہے پھر ان رسومات کو جاری کر کے افلاس اور غربت میں اضافہ نہیں کرنا چاہئے۔خوشی وہ جو انجام کار خوشی ہو۔جو لوگ مقروض ہو کر غلامانہ حالت میں گرفتار ہو جاتے ہیں وہ کبھی خوش نہیں رہ سکتے اور وہ لڑکی کب خوش ہو گی جو مقروض خاوند کے گھر جائے گی۔ے کے تاریخ اور فریقین کا تعین نہیں ہو سکا۔- الفضل ۱۶ جون ۱۹۳۱ء صفحه ۵)