خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 281

خطبات محمود ۲۸۱ سب چھوڑ دیا تھا۔تو انسان ان ذمہ داریوں سے نہیں بچ سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایسا بنایا ہے کہ اس کی تکمیل ان ذمہ داریوں کے اٹھانے سے ہی ہوتی ہے۔اگر وہ ان سے بچتا ہے تو یہ اسلام کے نزدیک ناپسندیدہ بات ہے۔دوسرے مذاہب نے اسے جائز رکھا ہے لیکن رسول کریم نے فرمایا ہے لَا رَهْبَانِيَّة فى الإسلام سے اور قرآن میں ہے وَرَهُبانِيَّة ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَها عَلَيْهِمْ - شالح - کہ یہ بدعت ان لوگوں نے اپنے طور پر اختیار کرلی ہے خدا کی طرف سے نہیں تھی۔اسلام نے اس بدعت کا ازالہ کیا اور بتایا ہے کہ انسان کے لئے مل کر رہنا ضروری ہے اور اس کے لئے پہلا قدم میاں بیوی۔دوسرا اولاد۔تیسرا اولاد کی اولاد ہے آگے یہ سلسلہ اور بھی وسیع ہوتا جائے گا۔یہ آیت جو نکاح کے موقع پر پڑھی جاتی ہے اس میں کیا ہی لطیف پیرایہ میں بتایا گیا ہے کہ انسانیت کو قائم رکھنے کے لئے یہ رشتے ضروری ہیں اور اگر دنیا اس بات کا لحاظ رکھے کہ ایک ہی آدم کی اولاد ہیں تو سب اقوام رشتہ داروں سے کس قدر قریب ہو سکتی ہیں فرمایا۔يايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاء وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيباً۔ل یعنی اس خدا کا تقویٰ اختیار کرو جس کا نام لے کر تم سوال کرتے ہو اور ارحام کا بھی تقوی اختیار کرو۔بعض لوگوں نے اس کے یہ معنے کئے ہیں کہ انسان صلہ رحمی سے اتفاء حاصل کرتا ہے۔اتقاء بھی کئی قسم کا ہوتا ہے۔ادنیٰ درجہ کا اتقاء جو لوگوں سے تعلق رکھتا ہے اس کی ایک مثال ا حضرت عمر کے زمانہ میں ملتی ہے۔ایک دفعہ بارش نہ ہوئی اور سخت قحط پڑا لوگوں نے حضرت عمریضہ سے کہا کہ آپ دعا کریں۔آپ دعا کے لئے گئے اور اس طرح کا الہی ! پہلے تیرا نبی ہم میں تھا وہ دعا کیا کرتا تھا اور تو قبول کر لیتا تھا۔اب اگر چہ وہ تو ہم میں نہیں لیکن اس کا چا ہم میں ہے اس کے ذریعہ تو ہم پر فضل کر دے کہ تو یہ بھی القاء کا ایک ذریعہ ہوتا ہے کہ بندے بھی نجات کا باعث بن جاتے ہیں تو رحموں کے ذریعہ بھی انسان اتقاء حاصل کر لیتا ہے۔یعنی رشتہ داریوں کو بجائے عذاب اور فتنہ کا موجب بنانے کے اپنی راحت و آرام کا موجب بنائے۔اگر لوگ یہ خیال رکھتے کہ ہم سب ایک ہی انسان سے چلے ہیں اور رشتوں کو قائم رکھتے تو اس قدر لڑائی جھگڑے نہ پیدا ہوتے اور ایک دوسری سے علیحدہ قومیں نہ بنتیں۔اگر سارے رشتہ i