خطبات محمود (جلد 3) — Page 260
خطبات محمود ۲۶۰ جلد سوم کردیں۔جیسی مجلس ہو وہ ایسا ہی خیال وہاں ظاہر کر دیتے ہیں اگر چہ خود دل میں برا بھی محسوس کرتے ہوں۔پھر اس سے بڑھ کر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے خیال میں سچ بولنے والے ہوتے ہیں جو وہ کہتے ہیں وہ کذب تو بے شک نہیں ہوتا لیکن قول غیر سدید ضرور ہوتا ہے۔عربی زبان میں قول سدید اور قول صادق میں فرق ہے۔دیگر مذاہب صرف یہ تعلیم دیتے ہیں کہ سچ بولو لیکن اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ تمہارا قول سچا اور ساتھ ہی سدید بھی ہونا چاہئے یہ عین ممکن ہے کہ ایک قول قول صدق ہو۔لیکن قول سدید نہ ہو لیکن قول سدید قول صدق ضرور ہوتا ہے۔قول سدید کے معنے یہ ہیں کہ اس میں کوئی کجی نہ ہو اور وہ نہ صرف معنا سچ ہو بلکہ ان مخفی خیالات کے لحاظ سے بھی سچ ہو جو انسان بات کرتے وقت اپنے دل میں پوشیدہ رکھتا ہے۔یہ نہ ہو کہ اس کی بات تو سچی ہو لیکن جو مفہوم وہ اس بات سے دوسرے کے ذہن نشین کرانا چاہتا ہے وہ صحیح نہ ہو اور پھر یہ بھی نہ ہو کہ اس کے دل میں تو اور مفہوم ہے لیکن دوسرا اس کی بات سے کچھ اور سمجھ رہا ہو مگر جب موقع آئے اور دوسرا گرفت کرے تو کہہ دے میرا تو یہ مطلب نہ تھا جیسے کچھ سال ہوئے ساؤتھ افریقہ میں یہ سوال پیدا ہوا کہ وہاں ہندوستانیوں کو کیا حقوق دیئے جائیں بعض انگریزوں نے کہا کہ ہندوستانی ایسٹ افریقہ لے لیں۔لیکن بعد میں وہاں بھی انگریزوں نے قبضہ کر لیا۔جب اس پر اعتراض کیا گیا تو کہہ دیا۔ہم نے تو کہا تھا لے لو مگر تم نے لیا نہیں۔اگر تصفیہ کر لیتے تو ہم اس پر قابض نہ ہوتے۔تو بعض باتیں قول صدق ہوتی ہیں قول سدید نہیں ہوتیں۔مگر اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہمیشہ قول سدید ہونا چاہئے کیونکہ بہت سے جھگڑے اور تفرقے قول سدید نہ ہونے سے ہی پیدا ہوتے ہیں خصوصاً بیاہ شادی کے تنازعات۔بعض لوگ کلام ایسے مخفی طور پر کرتے ہیں کہ خود ان کے نزدیک تو اس کا مفہوم اور ہوتا ہے لیکن سمجھنے والا اور مفہوم لیتا ہے اور ایسے ڈپلومیٹک الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں کہ جن سے دو مفہوم نکل سکیں۔ایک لڑکا اپنے والدین کو روپیہ دیتا رہتا ہے جس سے وہ اس سے بہت خوش رہتے ہیں لیکن کچھ عرصہ بعد جب وہ جائداد پر قبضہ کرنا چاہتا ہے تو جھگڑا پیدا ہو جاتا ہے۔دونوں میں روپیہ کے متعلق کوئی تشریح موجود نہیں ہوتی لیکن والدین یہی سمجھتے نہیں کہ بلحاظ اولاد ہمیں یہ رقم بطور نذرانہ دیتا ہے اور جب وہ اس کے عوض میں جائداد پر قبضہ کرنا چاہتا ہے تو برا مناتے ہیں اور باہمی تنازعہ شروع ہو جاتا ہے۔جس کی وجہ محض قول سدید کا نہ ہونا ہے اگر