خطبات محمود (جلد 3) — Page 246
۶۷ جلد سوم حقیقی جوڑے خدا ہی ملاتا ہے (فرموده ۱۴ ستمبر ۱۹۲۸ء) صاحبزادہ میاں عبد السلام صاحب ابن حضرت خلیفہ المسیح الاول کا نکاح ۱۴۔ستمبر ۱۹۲۸ء بعد نماز عصر جناب مفتی محمد صادق صاحب کی صاحبزادی سعیدہ بیگم صاحبہ کے ساتھ ایک ہزار روپیہ مر پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے پڑھا۔اے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : اللہ تعالٰی نے انسانی فطرت کو ایسا بنایا ہے کہ وہ اپنے کاموں کی تکمیل کے لئے دوسری اشیاء کی محتاج ہے بلکہ انسانی فطرت ہی نہیں ہر چیز کو ایسا بنایا ہے کہ اپنی تکمیل کے لئے دوسری کی محتاج ہے، سورج سیاروں کا محتاج ہے روشنی اس جو کی محتاج ہے جو اسے دنیا میں پھیلاتا ہے، آنکھ اس روشنی کی محتاج ہے جو اسے دکھاتی ہے، کان ہوا کے محتاج ہیں جو آواز کو لاتی ہے، زبان مزے کی محتاج ہے اور مزا اپنی طاقتوں کے اظہار کے لئے زبان کا محتاج ہے۔غرضیکہ سے رو یہ ایک عام زوجیت ہے جو دنیا میں نظر آتی ہے اور جس کا انکار کوئی عظمند نہیں کر سکتا۔اس کے علاوہ ایک اور بھی زوجیت ہے جو اس سے اخص ہے جس طرح ایک چھلکے۔بادام نکلتے ہیں اور ان دونوں کو اگر جوڑا جائے تو وہ ایک ہو سکتے ہیں لیکن اگر دوسرے دو جوڑے جائیں تو وہ کبھی آپس میں نہیں مل سکتے۔بعینہ اسی طرح ارواح میں بھی ایسا میلان رکھا گیا ہے کہ ان میں بھی جوڑے ہوتے ہیں اگر وہ مل جائیں تو ہر چیز مل جاتی ہے۔ان جوڑوں کی تلاش انسانی طاقت سے بالا ہوتی ہے۔جو خدا کے ازلی اور کامل علم میں جو خطا سے پاک ہے