خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 234

خطبات محمود کھانے پینے اور بچے پیدا کر کے پالنے سے زیادہ کچھ وقعت نہیں رکھتا۔وہ قطعاً اس بات کو نہیں سمجھتیں کہ وہ خدا تعالی کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔وہ صرف یہ سمجھتی ہیں کہ خاوندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔حالانکہ یہ تھیوری ہائیل کی تھی جس میں لکھا ہے کہ خدا نے آدم کو اداس دیکھ کر حوا کو اس کی دلداری کے لئے پیدا کیا یا پھر ہندوؤں کی یہ تھیوری ہے کہ عورتوں کو محض مردوں کے آرام اور و ان کی خدمت کے لئے پیدا کیا گیا ہے مگر یہ قومیں جن کی بنیاد ان باتوں پر تھی وہ تو ان کو ترک کر چکی ہیں اور ان میں احساس پیدا ہو گیا ہے کہ اگر عورتیں خدا کے قرب کے لئے نہیں تو اپنی قوم کی ترقی کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔چونکہ ان اقوام کے سب لوگ خدا تعالیٰ کی ہستی کے قائل نہیں۔اس لئے یہ نہیں کہتے کہ عورتیں خدا کا قرب حاصل کرنے کے لئے پیدا کی گئی ہیں مگر یہ ضرور کہتے ہیں کہ دنیا کی ترقی میں ان کا ویسا ہی حصہ ہے جیسا مردوں کا ہے مگر مسلمانوں میں ابھی تک یہ احساس بھی پیدا نہیں ہوا۔اور جب تک تمام کے تمام مسلمان عورتوں کی حالت کو بہتر بنانے کی طرف توجہ نہ کریں گے اس وقت تک کچھ کامیابی حاصل نہ ہو سکے گی۔کتابیں لکھنے سے یہ بات حاصل نہ ہوگی کتابوں سے لفظ تو سیکھے جاسکتے ہیں لیکن مغز نہیں سیکھا جا سکتا۔مغز صحبت اور عمل سے حاصل ہوتا ہے جو عورتیں تعلیم پا جاتی ہیں وہ دوسری عورتوں کو اپنے میں جذب نہیں کر سکتیں۔اس وجہ سے ان کے تعلیم پانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔جب تک ایسا نہ ہو کہ ہر تعلیم یافتہ عورت دوسری عورتوں کو اپنی مائیں اور بہنیں سمجھے اور ان کی حالت درست کرنے کی کوشش کرے اس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔ہماری جماعت کے لئے ضروری ہے کہ وہ عورتوں میں بیداری اور احساس پیدا کرنے کی کوشش کرے اور انہیں بتائے کہ ان کی زندگی صرف خاوندوں کے لئے نہیں بلکہ ان کی غرض ہے کہ وہ اپنے خاوندوں سے مل کر خدا تعالیٰ کے جلال کے اظہار کی کوشش کریں۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ باوجو د بار بار اس طرف توجہ دلانے کے اس وقت تک بہت کم توجہ کی گئی ہے اور ابھی تک عورتوں کی حالت بہت گری ہوئی ہے۔اگر چہ ہماری جماعت کی عورتوں اور دوسری عورتوں کی حالت میں فرق ہے اور میں تسلیم کرتا ہوں کہ جس رفتار سے وہ ترقی کر رہی ہیں وہ بہت امید افزا ہے۔ایک عورت کے متعلق کئی عورتوں اور مردوں کی طرف سے بار بار مجھے یہ بات پہنچی کہ وہ خود مضمون نہیں لکھتی مگر کوئی مرد لکھ کر دیتا ہے مگر اس خاتون