خطبات محمود (جلد 3) — Page 218
خطبات محمود ۲۱۸ جلد سوم پڑتے ہی سیدھی راہ اختیار کرلیتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا ، تُصْلِحُ ه لكُمُ اعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا - - ہے کہ نکاح کے ساتھ تم مرد اور عورت دونوں کی طرف سے ایک دوسرے پر ذمہ داریاں آئیں گی اگر ان کو ادا نہ کرو گے تو علاوہ نقصان برداشت کرنے کے بد عہد کہلاؤ گے۔پس چونکہ نکاح کے ساتھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور میاں بیوی سمجھتے ہیں یہ ادا کرنی پڑیں گی۔ادھر وہ نکاح کے ذریعہ ان ذمہ داریوں کے لئے مشترک ہو جاتے ہیں تو وہ دونوں ایک مقصد کے لئے اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اس عہد کی پابندی ان دونوں کو کرنی ہوتی ہے جو قُولُوا قَولاً سَدِيدًا سے پیدا ہوتی ہے۔یہ تو وہ ذمہ داریاں ہیں جو مرد کی طرف سے عورت پر اور عورت کی طرف سے مرد پر عائد ہوتی ہیں جس کے لئے وہ متحد اور مشترک کئے گئے ہیں۔مگر اس کے ساتھ ہی مذہب کی طرف سے بھی ذمہ داریاں آتی ہیں۔ایک اولاد کی تربیت ہے اور شریعت کی طرف سے ذمہ داری ہے اس کے متعلق بتایا کہ اس میں سستی نہ کرنا اور ساتھ ہی اس کا نتیجہ بھی بتا دیا کہ اگر سستی نہ کرو گے اور اولاد کی تربیت عمدہ طریق پر کرو گے تو فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا۔تم یا مراد ہو جاؤ گے۔یہ عظیم الشان نتائج اس سے پیدا ہوتے ہیں پس و لتَنْظُرُ نَفْسُ مَا قَدَّمَتْ لِغَد - سہ کے مطابق ہر شخص کو چاہئے کہ وہ سوچ لے کہ میں نے اپنے ہر فعل اور ہر قول سے آنے والے اوقات کے لئے ایک سامان تیار کرنا ہے اور یہ غور کرے کہ ان سامانوں کا اثر اس کی ذات تک ہی نہیں اور نہ ہی یہ یہاں تک ختم ہو جائے گا بلکہ اس کا اثر اس کی ذات سے ہٹ کر دوسروں تک بھی پہنچے گا۔اور اس زمانہ میں ختم نہیں ہو جائے گا بلکہ آئندہ آنے والے زمانہ تک بھی گا اور اگر آج کے کئے ہوئے سامانوں سے وہ خود اور اس کی آنے والی نسل کامیاب ہو جائے تو فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا - میں کیا شک رہ گیا۔آئندہ جن لوگوں پر اثر پہنچتا ہے۔ان میں سے سب سے زیادہ حصہ اولاد کو ملتا ہے اور ایک شخص اگر خود نہیں تو اولاد کے ذریعہ نیک اثرات لوگوں کے قلوب پر ڈال سکتا ہے۔پس اہم ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری عمدہ اور نیک اولاد حاصل کرتا ہے اور اگر فی الواقع کسی کو عمدہ اور نیک اولاد مل جائے اور اس کی ذمہ داری کی ادائیگی سے جو تربیت کے متعلق اس پر و