خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 217

خطبات محمود ۲۱۷ جلد موم پہلے غور نہ کیا جائے تو نہ نتائج اچھے نکلتے ہیں اور نہ ہی اس کام سے سکھ یا آرام حاصل ہوتا ہے۔یہ ناممکن ہے کہ ایک شخص ایک کام کے مقصد سے واقف ہو۔اس کے باعث سے خبردار ہو اور پھر کرنے پر اس کا نتیجہ اچھا نہ نکلے۔اس لئے انسان کو چاہئے کہ وہ کام کرنے سے پہلے ان مینوں پہلوؤں پر خوب غور کرلے اور اگر وہ خوب غور کرلے گا اور پھر اس کام کو کرے گا تو نہ صرف جسمانی ثمرات ہی پائے گا بلکہ روحانی نتائج بھی حاصل کرلے گا۔یہی حالت نکاح کی ہے۔اس کے بھی تین پہلو ہیں۔اگر ان تینوں پہلوؤں کو مد نظر رکھا جائے تو یہ با برکت اور مفید ہو سکتا ہے اور اس سے عمدہ نتائج اور ثمرات پیدا ہو سکتے ہیں۔نکاح کے موقع پر جو خطبہ نکاح پڑھا جاتا ہے اس کی غرض بھی یہی ہوتی ہے کہ فریقین کو ان تین امور کی طرف توجہ دلائی جائے۔یہ کوئی رسم نہیں کہ ایک لڑکے اور ایک لڑکی کے تعلقات قائم کر دیئے جاتے ہیں ہماری جماعت کو اسے رسم نہیں سمجھنا چاہئے یہ اسلام کا حکم ہے اور اس میں خدا کی رضا ہے۔رسم میں یہ بات نہیں ہوتی کیونکہ اسے لوگوں نے خود قائم کر لیا ہوتا ہے لیکن نکاح لوگوں نے خود نہیں کیا بلکہ خدا تعالٰی کا حکم ہے اور اس کے ذریعہ چند ذمہ داریاں لڑکے اور لڑکی پر عائد ہو جاتی ہیں جنہیں ان کو آئندہ زندگی میں نبھانا پڑتا ہے۔دراصل یہ ایک مدرسہ ہوتا ہے جس میں نکاح کے ذریعہ ان کو داخل کیا جاتا ہے اور اگر وہ جانتے ہوں کہ ہمیں اس مدرسہ میں کیوں داخل کیا گیا ہے اور ہمارے اس داخل کئے جانے کا مقصد کیا ہے اور اگر اس کی ضرورت اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں تو پھر وہ مقصد وہ ضرورت اور ذمہ داریاں صحیح اور درست بھی ہوں تو اس کے نہایت عمدہ نتائج پیدا ہو سکتے ہیں اور نکاح ایک بابرکت سے ہو جاتا ہے۔اگر ایک شخص پہلے ہی نتائج پر اچھی طرح غور کرلے تو اس کے دو فائدے ہوتے ہیں۔پہلا یہ کہ اگر نتائج سامنے آجائیں تو ایک شخص اپنی ذمہ داریوں کو دیکھ لیتا ہے اور پھر اس سے وہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ کیا میں اس کام کو کر سکتا ہوں یا نہیں۔اگر وہ سمجھتا ہے کہ کر سکتا ہے تو پھر اس کو برداشت کر لیتا ہے اور اگر مشکل بھی پیدا ہو تو اس سے گھبراتا نہیں۔غرض ذمہ داریوں کا جاننا ہر کام میں اس قدر ضروری ہے کہ ایک شخص جب تک ذمہ داریوں کو نہ سمجھے تب تک وہ کسی کام کو کرہی نہیں سکتا۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے۔نکاح کی غرض خشیت اللہ ہے اور یہ غرض دراصل ایک ذمہ داری ہوتی ہے جس کو اگر پہلے جان لیا جائے تو انسان اس مدرسہ میں