خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 216

خطبات محمود ۵۹ جلد سوم 2 خطبہ نکاح کا مقصد (فرموده ۱۹۲۵ء) له املہ الرحیم صاحبہ بنت حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی کا نکاح حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے محترم مرزا برکت علی صاحب سپروائزر ابادان سے پڑھا۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔چونکہ آج درس کا دن ہے اور مجھے کھانسی کی بھی شکایت ہے اس لئے اس موقع پر میں زیادہ نہیں بول سکتا لیکن اس قدر کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ خطبہ نکاح کو آنحضرت ﷺ نے اس لئے مقرر فرمایا ہے تا مسلمانوں کو ان اغراض و مقاصد کی طرف توجہ ہو جو نکاح کی ہیں اور ان فرائض و ذمہ داریوں اور ثمرات اور نتائج سے آگاہ ہوں جو نکاح سے وابستہ ہیں۔ہر کام جو انسان کرتا ہے اس کے تین پہلو ہوتے ہیں۔اس کام کے کرنے کا مقصد ہوتا ہے۔پھر اس کام کے کرنے کا باعث ہوتا ہے۔پھر اس کام کا نتیجہ یا ثمر ہوتا ہے۔پھر اس کے ساتھ ساتھ اس کام کی ذمہ داری ہوتی ہے جو اس کام کے کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔اور جب تک ان سب باتوں کو مد نظر نہ رکھا جائے کوئی کام کام نہیں کہلا سکتا اور نہ ہی اس کام کے ذریعہ کوئی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔پس جب ایک انسان کسی کام کے کرنے سے پہلے اس کے تینوں پہلوؤں کو سوچ لیتا ہے یعنی اس کے مقصد اور اس کے باعث اور اس کے نتیجے پر کافی غور کرلیتا ہے تو پھر اس میں اس کام کے کرنے کے لئے خاص شوق اور جذبہ پیدا ہو جاتا ہے اور پھر ایسے کاموں کے نتائج بھی اچھے نکلتے ہیں لیکن اگر ان کو مد نظر نہ رکھا جائے اور کام کے کرنے سے