خطبات محمود (جلد 3) — Page 214
خطبات محمود ه۲۱۴ جلد سوم حل کرے۔پھر اگر وہ درست کرے گا تو کہا مَا كَسَبَتْ اور اگر وہ غلطی کرے گا تو عَلَيْهَا مَا اكتسبت له در حقیقت اسلامی احکام کو تسلیم کر کے انسان اگر عدل کی کوشش کرے تو دوسری شادی اس کے لئے اس طرح ٹھو کر اور تکلیف کا باعث نہ ہو جس طرح عام طور پر ہوتی ہے کیونکہ انسان اپنے لئے مشکل خود پیدا کرتا ہے اور اپنے لئے جہنم خود تیار کرتا ہے۔دوسروں کی ملامت کی اسے ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ملامت اپنے نفس سے اور جہنم گھر سے پیدا ہوتی ہے۔آسمان سے آگ یا باہر سے شعلہ آنے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن اگر ایک نفس پرست انسان ایک بیوی کو مکھی کی طرح نکال دے اور دوسری کے ساتھ عیش و عشرت کرنا شروع کر دے تو اگر وہ کوشش کرے کہ جہنم سے بھاگ جاؤں تو کہاں بھاگ سکتا ہے۔اگر ایک جہنم سے بھاگے تو دوسری اس کے لئے تیار ہے۔ہاں جو خود اپنی غلطی محسوس کر کے اس جنم میں کود پڑتا ہے وہ بڑے جہنم سے بچ جاتا ہے مگر جو ایسا نہیں کرتا اس کے لئے اور جہنم جو بہت سخت ہے تیار ہوتی ہے اور رسول کریم ﷺ کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا انسان قیامت کے دن آدھا اٹھایا جائے گا۔سے اور قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ جنتی سالم اٹھایا جائے گا اس لئے آدھے دھڑ والا دوزخی ہو گا۔پس دوسری شادی کا سوال نہایت اہم اور نازک سوال ہے جسے دوستوں کی توجہ کے لئے میں پھر پیش کرتا ہوں یہ نہیں کہ اس خطبہ کو جو میں پڑھ رہا ہوں اس نکاح سے خاص تعلق ہے بلکہ ہر بات کے لئے کوئی تقریب چاہئے۔کسی نے کہا ہے۔۔تقریب کچھ تو بر ملاقات چاہیے سیاسی لوگوں کا قاعدہ ہوتا ہے کہ جب کوئی بات کہنا چاہتے ہیں تو ان لوگوں کی طرف سے دعوت کرا دیتے ہیں جن کے متعلق وہ ہوتی ہے اور پھر اس موقع پر بیان کر دیتے ہیں۔چونکہ نکاح کے متعلق کچھ کہنے کا بہترین موقع نکاح ہی ہے اور دوسری شادی کے لئے کچھ کہنے کے لئے دوسرے نکاح کا موقع۔اس لئے میں اس وقت یہ سوال پیش کرنا چاہتا ہوں کہ کئی لوگ ہیں جو دوسری شادی کرتے ہیں تو پہلی بیوی کو معلقہ بنا دیتے ہیں اور اس سے حسن سلوک نہیں کرتے۔یا ایسا ہوتا ہے کہ پہلی یا پچھلی بیوی خاوند کے لئے اس طرح جنم تیار کر دیتی ہے کہ اس کا محبت کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔دوسرا ان باتوں کو بہت معمولی سمجھتا ہے اور وہ بہت چھوٹی