خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 174

خطبات محمود ۱۷ جلد سوم گے مگر عدالت میں نہ جائیں گے اس لئے کہ مجھے عدالت میں نہ جانا پڑے۔ایسے لوگوں کے سوا میں کسی کا نکاح نہیں پڑھوں گا۔اس وقت رقعے بہت سے آئے ہیں مگر میں نے تین رقعے انتخاب کئے ہیں جن کا میں اعلان کرتا ہوں۔پہلا نکاح ایسے شخص کی اولاد کے درمیان ہے جو ان چند خاندانوں میں سے ہیں جن کی کئی نسلوں کو حضرت مسیح موعود کی بیعت کا موقع ملا ہے مجھے ذاتی طور پر اس خاندان کے بڑوں سے تعلق تھا اور وہ ایسا تعلق تھا جو فی اللہ محبت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔وہ میاں چراغ دین مرحوم لاہور کا خاندان ہے۔میاں چراغ دین وہ شخص ہیں جن کا دعوئی سے پہلے ہی حضرت مسیح موعود سے تعلق تھا جب کہ آپ نے اسلام کی تائید میں مضامین لکھنے شروع کئے۔یہ الہی بخش اکاؤنٹنٹ کی جماعت کے لوگوں میں سے تھے وہ سب مرتد ہو گئے اور یہ ساتھ رہے۔انہوں نے جب مسیح موعود کا دامن پکڑا پھر نہیں چھوڑا۔بیعت سے پہلے بھی تائید میں رہے اور دعوئی کے وقت بھی تائید میں رہے۔ان کے ایک بیٹے کے لڑکے اور دوسرے بیٹے کی لڑکی کا نکاح ہے۔نکاح کے بعد میں اس خاندان کے لئے دعا کروں گا۔میاں چراغ دین کی وفات کے بعد کچھ مالی مشکلات اس خاندان کو درپیش ہیں ان کے لئے بھی دعا کی جائے کہ اللہ تعالی ان کو دور کر دے۔اس کے بعد حضور نے شریف احمد پسر میاں عبد العزیز صاحب ولد میاں چراغ دین مرحوم کا نکاح رشیدہ بنت میاں عبدالرشید صاحب ولد میاں چراغ دین مرحوم سے ایک ہزار روپیہ مہر پر اعلان فرمایا۔نصیر احمد پسر میاں نورالدین صاحب نقشہ نویس راولپنڈی کا نکاح زبیدہ بنت حکیم غلام غوث صاحب امرتسری سے پڑھا۔- میاں عبدالرحیم صاحب ڈرا مسمین شملہ کا نکاح محمد اسماعیل صاحب کی بیٹی سردار بیگم سے پڑھا۔الفضل -۸- جنوری ۱۹۲۳ء صفحه (۸)