خطبات محمود (جلد 3) — Page 152
خطبات محمود ۱۵۲ جلد سوم آیا۔ایک سوداگر کی جیب سے جو اثرات کی پڑیا گر گئی ایک بچہ کو ملی اس نے معمولی شیشہ خیال کر کے پیسہ کے چار چار بیچ ڈالے۔لڑکے آپس میں گولیاں کھیلتے ہیں۔ایک شخص نے اپنے بچے کے پاس دیکھا تو پہچانا۔کسی دکاندار کے پاس لے گیا اس نے بڑی قیمت بتائی جس کے جواھرات تھے اس نے پولیس میں اطلاع کر دی۔اس شخص سے جس کے بچہ کے قبضہ میں ہیرا تھا پوچھا گیا۔اس نے سب حال بتایا۔آخر سراغ لگا کہ لڑکوں کو پڑ یا ملی تھی۔اب دیکھو کہ ان بچوں کو صرف یہ معلوم تھا کہ یہ شیشے ہیں ان سے کھیلنا چاہئے۔اگر ان کو اس کی اہمیت معلوم ہوتی تو وہ پیسہ کے چار چار نہ بیچتے۔یہی حال نکاح کا ہے انسان کی زندگی اگر با امن ہو سکتی ہے تو نکاح سے۔اگر اس کو اس کی اہمیت کا علم ہو تو اس سے بڑے بڑے فوائد حاصل کر سکتا ہے۔اللہ تعالی قرآن کریم میں اس کے متعلق فرماتا ہے : يَاتِهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَ َّبكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءَ ، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا له اے لوگو! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تم کو ایک جوڑے سے پیدا کیا۔اور پھر کس قدر جوڑوں کو پھیلا دیا۔مرد بنائے، عورتیں بنائیں کیا یہ اتنا بڑا کارخانہ لغو ہے۔ان الله كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا۔وہ تم پر نگہبانی کر رہا ہے۔شریعت بھیجی۔انبیاء بھیجے تاکہ تمہاری زندگیاں پر امن ہوں۔پس یہ کارخانہ لغو نہیں۔اس کی اہمیت کا خیال کرو۔اور وہ فوائد اٹھاؤ جو اس کے اندر ہیں۔مگر بہت ہیں جو اس کی اہمیت سے بے خبر ہیں۔اور بہت ہیں جو جانتے تو ہیں مگر وہ۔فوائد حاصل نہیں کر سکتے۔الفضل ۱۰ اگست ۱۹۲۲ء صفحه ۶) الفضل ۱۵ مئی ۱۹۲۲ء صفحه ۲ ه القيام : ۲