خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 144

خطبات محمود جلد سوم اس کی ایسی مثال ہے کہ کوئی شخص اپنے مقدمہ میں کسی کو وکیل بنائے اور وکیل بجائے اس کے مقدمہ کی پیروی کرنے کے فریق ثانی سے روپیہ لے کر اس کی طرف داری کرے جیسا کہ وہ وکیل جو اس قسم کی حرکت کا مرتکب ہوتا ہے شریر ہے۔ویسا ہی وہ ولی بھی شریر ہے جو اپنے نفع کے لئے ولایت کا ناجائز استعمال کرتا ہے۔ملک کا رواج ہے کہ لڑکی تب دیتے ہیں کہ جب کوئی ان کے لڑکے یا رشتہ دار کا بھی بندو بست کرے۔ایسا باپ جو لڑکی کے فوائد کو نظر انداز کر دیتا ہے اور اپنے فوائد کو مقدم کرتا ہے وہ سخت برا کام کرتا ہے اس قسم کے رشتوں کو بجا کہتے ہیں۔اور یہ شریعت میں ناجائز ہے۔یہ جائز ہے کہ ایک جگہ کسی کی لڑکی بیاہی ہو اور پھر لڑکی والوں کے ہاں لڑکے والوں کی لڑکی کا رشتہ ہو جائے۔مگر مقرر کر کے رشتہ داری کرنا نا جائز ہے اور اپنے وکالت نامہ کا غلط استعمال ہے اور ابھی تک ہماری جماعت میں سے یہ بھی نہیں گیا۔جب تک لوگ اس فرض کو نہ پہچانیں گے کہ ہم اپنے وکالت نامہ کو خراب نہیں کریں گے تب تک یہ رسم نہیں مٹ سکتی۔الفضل ۲۲ جون ۱۹۲۲ء صفحہ ۷) ے فریقین کا الفضل سے تعین نہیں ہو سکا