خطبات محمود (جلد 3) — Page 124
خطبات محمود سلام ۱۳ جلد سوم خواہ بدبو ہی سونگھے اس سے خوشی ہوتی ہے تو بعض راحتیں معلوم نہیں ہوتیں مگر اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب فرض کر لیا جائے کہ وہ قوتیں ضائع ہو گئیں اور پھر ملی ہیں۔اور یہ بات کہ اجتماع سے لذت حاصل ہوتی ہے ہمیں اس طرف راہبری کرتی ہے کہ جب بندوں سے ملاپ میں راحت ہے اور سرور ہے تو خدا سے ملاپ اور وصال میں کس قدر لذت اور سرور اور راحت ہوگی۔اور اسی اصل کے ماتحت نکاح بھی آجاتا ہے۔میں نے یہ بات یونسی نہیں کہی کہ چھوٹی باتیں بڑی باتوں کے لئے راہبر ہوتی ہیں بلکہ میں اس کی مثال دیتا ہوں۔دین میں حیا نہیں۔ہمارے وعظ میں بچے بھی ہوتے ہیں ہم ان کو روک بھی نہیں سکتے اور نہ ہم ان کو ان باتوں سے ناواقف رکھنا چاہتے ہیں اس لئے میں بتاتا ہوں کہ کس طرح چھوٹی باتوں سے بڑی باتوں کی طرف توجہ ہوتی ہے اور کس طرح مرد و عورت کا ملاپ خدا سے تعلق کی طرف راہبری کرتا ہے۔انسان کی غرض پیدائش ایک یہ بھی ہے کہ یہ نسل چلائے۔خدا کو بقاء نسل انسانی مد نظر ہے اس کے لئے اس نے کیا سامان کہئے۔یہ ایک بڑا مقصد ہے۔اب دیکھو کس طرح اس بڑی غرض کو چھوٹے چھوٹے ذریعوں سے حاصل کرالیا ہے۔بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے سارے جسم میں جماع کی طاقت ہوتی ہے بقاء نوع انسانی کا مدار بقاء شخصی پر ہے یعنی اس کا پہلا زینہ یہ ہے کہ بچہ خود زندہ رہے۔سوال ہوتا ہے کہ بچہ کو دودھ پینا کون سکھاتا ہے وہ بول نہیں سکتا۔اپنے خیالات اور خواہشات کا اظہار نہیں کر سکتا مگر قدرت نے قوت شہوت کو اس کے تالو اور زبان میں خصوصاً زیادہ رکھ دیا۔بچہ جب ماں کی چھاتی منہ میں لیتا اور دباتا ہے تو اس کو مزا آتا ہے۔اور اس کے ساتھ اس کے پیٹ میں دودھ بھی چلا جاتا ہے جس سے اس کی بقاء شخصی ہوتی ہے گویا اس لذت میں خدا نے اس کی زندگی و بقاء کو رکھا تھا۔اب بچپن سے گزر کر جوانی کے دن آتے ہیں تو اس وقت کون ان کو وہ خاص باتیں سکھاتا ہے سوائے شریروں کے۔باقی سب کو قدرت اور خدا کا قانون سکھلاتا ہے۔مگر اس کی کیا صورت ہے۔اس کے لئے جانا چاہئے کہ اس قوت اور لذت کو قدرت نے ان آلات کے قریب رکھ دیا جو پیشاب وغیرہ کے ہوتے ہیں۔گندگی کو انسان دھوتا ہے اور اس طرح اس کو لذت کا علم ہو جاتا ہے اور مزا محسوس کرتا ہے اور وہ معلوم کرتا ہے کہ یہاں ہی وہ چیز ہے جو نسل انسانی کی بقاء کے لئے اس کو دی گئی ہے۔یہ بہت لطیف اور لمبی بحث ہے مگر میں نے مختصرا بیان کر دی ہے کہ چھوٹی بات سے بڑی بات کی طرف کس طرح توجہ دلائی جاتی ہے دیکھو کس طرح چھوٹی لذت سے بقاء نسل کا