خطبات محمود (جلد 3) — Page 121
خطبات محمود IPI جلد سوم کیڑے سے نہیں بلکہ یہ اعلیٰ تغیر ہے جس کا نتیجہ انسان ہے۔تین لاکھ سال میں ہوا ہے جب انسان اس درجہ پر پہنچ گیا تو اس لمبے عرصہ میں اور کوئی تغیر انسان میں نظر نہیں آتا جس۔معلوم ہو کہ دنیا کی ترقیاں انسان پر ختم ہو گئی ہیں۔قاعدہ ہے کہ جب مدعا حاصل ہو جائے تو کام بند کر دیا جاتا ہے اس لئے اگر انسان کے آگے کر کوئی اعلیٰ درجہ کے انسان بننا ہوتے تو یہ تغیر ضرور ظاہر ہوتا لیکن چونکہ تغیر اس لمبے عرصہ میں نہیں ہوا اس لئے معلوم ہوا کہ یہ غرض پوری ہو گئی ہے مگر خیال ہو سکتا ہے کہ انتظار کرنا چاہئے تغیر تو ہو گا مگر لمبے عرصہ کے بعد۔ہم کہتے ہیں کہ چونکہ خدا تعالی کا کلام اپنی پوری شان کے ساتھ نازل ہو چکا ہے اس لئے ہمیں معلوم ہو گیا کہ اور کوئی تغیر نہیں ہو گا۔اب یہی منشائے ایزدی ہے کہ جس طرح پر اب نسل انسانی چلائی جارہی ہے اسی طرح چلائی جائے۔سورج اور چاند اور ستاروں کی حرکتیں ، ہوا کا چلنا، موسموں کے تغیرات، زمین کے اثرات کا ظہور ، لاکھوں پرندوں کی پیدائش، نباتات و جمادات کا وجود ان سب کی غرض یہ ہے کہ انسان پیدا ہوں اور قائم رہیں۔دو صورتیں تھیں۔۱۔تکمیل شریعت ۲۔انسان کا قیام - تکمیل شریعت ہو چکی اور اب جب تک یہ فیصلہ نہ ہو کہ انسان کو مٹا دیا جائے یہی قدرت کا منشاء ہے کہ انسان کو قائم رکھا جائے۔یہی انسان کا دل خدا تعالیٰ کا عرش ہے جس پر اس کا کلام نازل ہوتا ہے۔اب دیکھو نکاح کیا ہے۔یہ تغیر جو لاکھوں سال کے درمیان ہوا اور بے شمار زندگیوں کو کروڑ در کروڑ سکھ در سنکھ بلکہ جن کے گننے کے لئے بے شمار زمانہ کی ضرورت ہے اتنی زندگیوں کے فنا کے بعد انسان پیدا ہوا۔نکاح کی غرض یہ ہے کہ انسان جو اتنے بڑے اور اہم تغیر کے بعد پیدا ہوا اس کی نسل کو آگے چلایا جائے۔پہلے انسان کس طرح پیدا ہوا۔اس بحث کی ضرورت نہیں۔اب انسانی پیدائش کا ذریعہ نکاح ہے یعنی ایک مرد اور ایک عورت کا ملنا جس سے بچے پیدا ہوتے ہیں۔بظاہر نکاح معمولی سی بات معلوم ہوتی ہے مگر در حقیقت اس لاکھوں سال کے تغیر کے قیام اور نسل انسانی کی افزائش کے لئے ہے۔اس کے لئے عورت و مرد ملتے ہیں اسی غرض کو تحمیل تک پہنچانے کے لئے نکاح ہوتا ہے اور یہ اتنا اہم معاملہ ہے کہ خدا کے تعلق کے بعد دوسرے نمبر پر اس کا پورا کرنا اور اس کی حفاظت کرتا ہے۔شریعت نے دو حقوق رکھتے ہیں حقوق اللہ اور دوسرے حقوق العباد - گویا نکاح دوسرے پاؤں کی حیثیت رکھتا ہے۔شریعت نے اس کو اتنا اہم