خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 120

خطبات محمود ۱۲۰ ۳۵ جلد سوم نکاح نسل انسانی کی افزائش کے لئے ہے (فرموده ۱۰ - دسمبر ۱۹۲۱ء) ۱۰- دسمبر ۱۹۲۱ء بعد نماز عصر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ڈاکٹر محمدعبداللہ صاحب کی لڑکی فاطمہ کا نکاح پانچ سو روپیہ مہر پر احمد اللہ خان ولد قدرت اللہ خان صاحب سے پڑھا۔لے خطبہ مسنونہ پڑھنے کے بعد فرمایا۔نکاح کا معاملہ جیسا نازک اور اہم معاملہ ہے دنیاوی معاملات ایسے کم نازک ہوتے ہیں۔نکاح میں مرد عورت پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ لوگ اس کو اتنا محسوس نہیں کرتے جس قدر وہ ہوتی ہے کیونکہ جتنا محسوس کرتے ہیں وہ بہت ادنی ہے۔اور در حقیقت وہ اس سے بھی بہت بڑی ہے۔وہ کیا ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ تمام دنیا میں ایک مخفی ارادہ کام کرتا نظر آتا ہے جس کو دہریوں کے لفظ میں ایک قوت کہہ سکتے ہیں۔ہم اس بحث میں اس وقت نہیں پڑیں گے کہ وہ قوت ہے یا ارادہ ہے یا اور کیا ہے۔بہر حال ایک منشاء ہے جس کا دہریہ بھی منکر نہیں ہو سکتا کہ جس سے انسان کی زندگی کو قائم کیا جاتا ہے۔خواہ اس کو عیسائیوں کی طرح یوں کہا جائے کہ چھ ہزار سال سے یہ سلسلہ ہوا ہے خواہ یورپ کے لوگوں کی طرح یہ کہا جائے کہ لاکھوں سال کی ترقی کے بعد آہستہ آہستہ یہ حالت ہوئی ہے خواہ جس طرح ہمارے صوفیاء نے کہا ہے کہ ترقی اور نشو و نما تدریجی ہے۔قرآن کریم میں جن ایام کا ذکر ہے وہ یہ نہیں جو ہم سمجھتے ہیں بلکہ اور ہیں جو لاکھوں سال تک ہیں۔چنانچہ ایک تغیر کے متعلق حضرت سید عبدالکریم جیلی " صاحب اپنا کشف لکھتے ہیں کہ وہ تغیر تین لاکھ سال میں ہوا۔سے