خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 115

خطبات محمود ۱۱۵ جلد سوم ہے لیکن اس محبت سے اس کو کامل خوشی نہیں ملتی بلکہ ان راحتوں کے باوجود اس کا دل محسوس کر رہا ہوتا ہے کہ ابھی میری راحت میں کمی ہے اور میری راحت ان چیزوں کے علاوہ کسی اور چیز میں ہے کیونکہ محبتوں کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی راحت اس خارش کے مشابہ ہوتی ہے جو پھوڑے پر ہوتی ہے اور اس سے ایک راحت ہوتی ہے۔ان راحتوں کے باوجود اگر وہ راحت نہ ملے تو یہ تمام راحتیں اکارت ہوتی ہیں۔غرض یہ تمام تعلقات اس لئے ہیں کہ انسان کی توجہ خدا تعالی کی طرف پھرے اور اسی لئے نکاح کے معاملہ میں تقویٰ اللہ کی طرف توجہ دلائی جس میں بتایا کہ تم اس پاگل کی طرح نہ ہونا جون پھوڑے کا علاج اس لئے نہ کرے کہ اس کو کھجلانے میں ایک راحت ملتی ہے کیونکہ اصل راحت اس کھیلی میں نہیں جو پھوڑے پر ہوتی ہے بلکہ کامل صحت میں ہے جو اس کے بعد ہے۔اس لئے انسان کو خواہ کس قدر بھی سامان راحت حاصل ہوں اس کی راحت مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اس کا خدا تعالیٰ سے تعلق نہ ہو۔میاں بیوی کے تعلقات پھوڑے کو سہلانے کے مشابہ ہیں ان میں راحت ہوتی ہے مگر باوجود اس راحت کے انسان محسوس کرتا ہے کہ مجھ کو کامل راحت نہیں کیونکہ جہاں اس کو ان تعلقات میں راحت ہوتی ہے وہاں اس کے ذمہ بہت سے فرائض بھی لگ جاتے ہیں۔بچے راحت کا موجب ہوتے ہیں لیکن اگر بیمار ہوں تو ان کی دوا اور تیمارداری کی فکر، ان کے کھانے پینے کی فکر اور ان کی تعلیم کی دقتیں، ان کی تربیت کا خیال غرض گوناگوں دقتیں اور تکلیفیں ایک راحت کے مقابلہ میں ہوتی ہیں۔بیوی سے راحت ہوتی ہے مگر اس کے حقوق کا بار بھی انسان پر پڑ جاتا ہے اس حالت میں اس کی توجہ خدا تعالی کی طرف پھرتی ہے۔اور وہ کہتا ہے کہ میری کامل راحت تو خدا تعالی میں ہے اور یہ تعلقات خدا کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہوتے ہیں۔ان ہی تعلقات میں پھنس جانا اور ان ہی میں اپنی راحت کو محدود اور منحصر سمجھتے رہنا غلطی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا۔اِتَّقُوا اللهَ اِتَّقُوا اللهَ اتَّقُوا الله - لہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ان ہی تعلقات میں نہ پڑے رہو بلکہ اپنی کامل راحت یعنی خدا تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔لے فریقین کا الفضل سے تعین نہیں ہو سکا۔الفضل (۱۶۔جنوری ۱۹۲۲ء صفحہ ۷۶)