خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 97

92 ۲۷ خطبات محمود ہم میں اور غیروں میں عملی فرق ہونا چاہئے (فرموده ۱۴ مارچ ۱۹۲۱ء) ۱۴ مارچ ۱۹۲۱ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے محمد اسماعیل صاحب ولد نظام الدین صاحب کا نکاح مریم بنت محمد عبد اللہ صاحب سے ۳۰۰ روپے صر پر پڑھا۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : چونکہ اس وقت درس کا وقت ہے اس لئے میں فریقین کو صرف اسی قدر نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ یہ وہ زمانہ ہے جس میں تمام دنیا کی نظر ہماری جماعت پر پڑ رہی ہے۔لوگ ہمارے ایک ایک عمل کو دیکھتے ہیں کہ ہم میں اور ہمارے غیروں میں کیا فرق ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر ہمارا دعویٰ تو یہ ہو کہ ہم خدا کے ایک نبی کے پیرو ہیں لیکن اس کے قدم پر ہمارا قدم نہ ہو تو ہم پر یہ الزام آسکتا ہے کیونکہ اگر کوئی اور مدعی ہو اور وہ سچا بھی ہو مگر جو لوگ اس کے ماننے والے ہوں ان کی عملی حالت اچھی نہ ہو تو ان کو کیا فائدہ۔اگر خدا ہمارے کسی باریک استحقاق ہمیں اس کی طرف ہدایت دے تو دے ورنہ ظاہر حالت ہم اس کی طرف متوجہ نہیں ہو سکتے۔پس یہی حال اوروں کے متعلق ہے کہ جب تک لوگ ہم میں اور ہمارے غیروں میں عملی فرق نہ دیکھ لیں اس وقت تک وہ ادھر توجہ نہیں کرسکتے۔یہی وجہ ہے کہ آج تک ہماری ترقی نہیں ہوئی۔لوگوں کو عموماً ہم میں اور اپنے سے غیروں میں کوئی نمایاں فرق نظر نہیں آتا۔ہ ہمیں غیروں سے ممتاز نہیں دیکھتے اس لئے جب تک ہمارے ہر ایک کام میں خاص رنگ نہ ہو ہم ترقی نہیں پاسکتے۔یہی حال نکاح کے معاملہ کا ہے۔اگر لوگ دیکھیں کہ احمدی لڑکے اپنے رہ