خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 80

خطبات محمود جلد نمبر 39 80 $1958 اس میں کوئی شبہ نہیں کہ غیر احمدی اس کی بڑی تعریف کرتے ہیں مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ اُن کو کی اعتراض نہیں سو جھتا۔اعتراض ہم کو سو جھتا ہے اور جواب بھی ہم ہی دیتے ہیں۔پس صرف اُن کی کی ریف پر ہمیں خوش نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اُن کی تعریف بالکل ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کسی گاؤں میں ایک ہاتھی آیا تو لوگ اُس کو دیکھنے کے لیے دوڑ پڑے۔ایک اندھے نے دوسرے سے کہا کہ تم مجھے بھی ساتھ لے چلو۔اُس نے کہا تمہیں کیا نظر آئے گا؟ وہ کہنے لگا چاہے مجھے کچھ نظر نہ آئے مجھے لے چلو میں ہاتھ لگا کر ہی دیکھ لوں گا۔جب واپس آئے تو لوگوں نے آپس میں گفتگو شروع کر دی کہ ہاتھی کی کیسا ہوتا ہے۔اُس اندھے نے اُن کی باتیں سن کر کہا یہ سب جھوٹ ہے۔اُس نے ہاتھی کے سونڈ اور ٹانگوں پر ہاتھ لگایا تھا اور پھر پیٹ پر بھی ہاتھ پھیرا تھا۔وہ کہنے لگا وہ تو ایک موٹی سی چیز ہوتی ہے جو چار ستونوں پر رکھی ہوئی ہوتی ہے اور ایک پانچواں ستون اور ہوتا ہے جو اُس کے آگے ہوتا ہے۔یہی حال غیروں کی تعریف کا ہے۔انہوں نے نہ قرآن کریم پر کبھی غور کیا اور نہ دشمن کے اعتراضات کا انہیں علم ہے۔پس ہمیں اس پر خوش نہیں ہونا چاہیے۔ہمیں اُن کے ہاتھ میں قرآن کریم مکمل صورت میں دینا چاہیے تا انہیں پتا لگے کہ یہ معنے صرف احمدیوں کے ہی نہیں بلکہ ہمارے گزشتہ بزرگ بھی ان معنوں کی تصدیق کرتے رہے ہیں۔مثال کے طور پر دیکھ لو وفات مسیح کا مسئلہ کیسا واضح ہے لیکن غیر احمدی اب تک ہمارے معنوں کی مخالفت کرتے چلے آرہے ہیں۔حالانکہ یہ ایک واضح بات ہے کہ اگر کوئی کہے کہ تَوَ فی فُلانٌ تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ شخص مر گیا ہے۔گورنمنٹ کے کاغذات میں بھی لکھا ہوتا ہے کہ یہ فلاں متوفی کا بیٹا ہے اور کوئی نہیں کہتا کہ وہ آسمان پر بیٹھا ہوا ہے۔پس جن لوگوں نے ساٹھ ستر سال میں بھی کی ہمارے ایک لفظ کے معنے کو تسلیم نہیں کیا وہ ایک دن میں ہمارے تمام قرآن کے معنوں کو کب تسلیم کر لیں گے۔بہر حال تمام قرآن مجید دوسروں سے منوا لینا اور اُن کو سمجھا دینا بہت مشکل امر ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ قرآن کریم آسمان پر چلا جائے گا۔صرف اس کا خط باقی رہ جائے گا 10 اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں کہ ایک زمانہ میں قرآن کریم کے معنے زمین سے اُٹھ جائیں گے اور صرف تحریر باقی رہ جائے گی تو تم کس طرح خیال کرتے ہو کہ تمہارے کیے ہوئے معنے فورامان لیے جائیں گے۔اس کے لیے تو خدا تعالیٰ کی نصرت اور