خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 79

خطبات محمود جلد نمبر 39 79 $1958 ارادہ کرتا ہے تو ( لکڑیوں کو ) کا ٹتا چلا جاتا ہے۔میں نے کہا اس جگہ کلہاڑے کی طرف چلنے کا ارادہ منسوب کیا گیا ہے۔کیا اس میں ارادہ ہوتا ہے؟ یہ شعر پڑھنا تھا کہ اُس کا منہ بند ہو گیا اور وہ سخت ہے شرمندہ ہوا۔اسی طرح وہ ابو محمد یزیدی کا واقعہ لکھتے ہیں کہ میں اور مشہور نحوی کسائی ، عباس بن حسن کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں اُن کا ایک نو کر آیا اور کہنے لگا کہ حضور! میں فلاں شخص کے پاس سے آیا ہوں۔هُوَ يُرِيدُ اَنْ يَمُوتَ کہ وہ تو مرنے کا ارادہ کر رہا ہے۔اس پر ہم سب ہنس پڑے کہ کیا کوئی کی مرنے کا بھی ارادہ کیا کرتا ہے؟ عباس بن حسن نے کہا تم کس بات پر ہنسے ہو؟ کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نہیں فرمایا کہ فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا تُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ۔اس پر ہم سمجھ گئے کہ اَرَادَ " کا لفظ کبھی قرب وقوع پر دلالت کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے 9۔لیکن میں نے جب ی اس آیت کو دیکھا تو اس پر کوئی نوٹ درج نہیں تھا۔اگر وہاں اس آیت کے نیچے فقہ اللغۃ کا حوالہ د۔دیا جا تا تو اعتراض کرنے والے کا منہ بند ہو جاتا اور وہ سمجھ لیتا کہ جو تر جمہ ہم نے کیا ہے وہی درست ہے اور علمائے لغت نے اس کی تصدیق کی ہے۔اسی طرح میں نے چار پانچ اور آیات نکلوائیں تو اُن میں سے بھی کسی پر کوئی نوٹ نہ تھا حالانکہ میرے نوٹ موجود تھے۔میں نے اپنا قرآن کریم چار حصوں میں جلد کروایا ہوا تھا اور میری توی عادت تھی کہ میں جب قرآن کریم پڑھتا تو اُس کے حاشیہ پر تشریح کر دیتا۔جب ہم جابہ میں تفسیر صغیر لکھ رہے تھے تو ایک آیت کی کہیں تشریح نہیں ملتی تھی۔آخر میں نے کہا کہ میرا قرآن کریم نکالو۔جب نکالا گیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں اس آیت کی تشریح موجود تھی جس سے وہ تمام آیت حل ہو گئی۔پس میرے اس قرآن میں یہ سارے حوالے موجود ہیں کیونکہ میری عادت تھی کہ میں کتابیں پڑھتا تو قرآن پر نوٹ لکھ دیا کرتا۔اس لیے کوئی مشکل نہیں تھی۔اول تو ممکن ہے میں نے یہ بات کسی خطبہ میں بھی بیان کر دی ہو لیکن خطبوں میں تلاش کرنا تو مشکل ہوتا ہے۔میرا قرآن کریم ہی دیکھ لیا جاتا تو یہ نوٹ آ جاتا۔یہ قرآن کریم مولوی یعقوب صاحب کے پاس ہے اور مولوی نورالحق صاحب بھی ان کی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔اس قرآن سے یہ سب حوالے دیکھے جا سکتے تھے۔بہر حال ہمیں ضرورت ہے کہ ہم قرآن کریم کی ایسے مفید طور پر اشاعت کریں کہ دشمن کو اعتراض کا موقع نہ ملے۔