خطبات محمود (جلد 39) — Page 334
$1959 334 خطبات محمود جلد نمبر 39 ہوں جسے خدا تعالیٰ نے سب نبیوں کا سردار بنایا ہے کہ یہ بات اس طرح ہے۔حضرت ابو بکر کو غصہ آ گیا کہ یہ شخص حضرت موسی علیہ السلام کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فضیلت دیتا ہے اور آپ نے اُسے تھپڑ مار دیا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتالگا تو آپ خفا ہوئے اور فرمایا کہ اس یہودی نے اگر اپنے عقیدہ کی وجہ سے یہ بات کہی تھی تو آپ کو اُسے تھپڑ مارنے کا کوئی حق نہیں تھا۔5 تو دینی معاملات میں بھی اسلام نے زیادتی کو ناجائز قرار دیا ہے۔اسی بات کی طرف اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں توجہ دلائی ہے۔فرماتا ہے لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۔کسی قوم کی اِس وجہ سے دشمنی کہ اُس نے تمہیں حج سے روکا ن ہے تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اُس پر زیادتی کرنے لگ جاؤ۔چاہے کوئی دینی جھگڑا ہوا دوسرے پر زیادتی کرنا بالکل نا جائز ہے۔تم حق کا قانونی مطالبہ کرو لیکن تمہیں یہ اختیار نہیں کہ قانون کو کی ہاتھ میں لے لو اور حد سے بڑھ جاؤ۔پھر باقی مسلمانوں کو کہتا ہے کہ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى - کئی دفعہ دنی معاملات میں ایسا ہوتا ہے کہ ساری قوم اکٹھی ہو جاتی ہے۔چنانچہ بغداد کی تباہی کا موجب بھی یہی ہوا کہ وہاں کا وزیر جس فرقہ کا تھا اُس کی شہ پر اُس فرقہ کے لوگوں نے دوسرے فرقہ کو تنگ کیا۔اس پر پہلے فرقہ کے لوگ بھی اکٹھے ہو گئے اور دوسرے فرقے والے بھی اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے ایک دوسرے کا مقابلہ کیا۔ایک فرقہ کو یہ خیال گزرا کہ دوسرے فرقہ والے ہمارے مذہب کی ہتک کرتے ہیں اور دوسروں کو یہ خیال ہوا کہ پہلے فرقہ والے ہمارے مذہب کی ہتک کرتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس وزیر نے ہلاکو خاں سے ساز باز کی اور اُس نے حملہ کر کے بادشاہ اور ولی عہد کو قتل کر دیا اور اٹھارہ لاکھ مسلمان ایک دن میں مار ڈالے۔اُس وقت لوگ کسی بزرگ کے پاس گئے اور اُن سے عرض کیا کہ دُعائی کریں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تباہی سے بچائے۔اُس بزرگ نے جواب دیا میں تو پہلے بھی دُعا کرتا تای ہوں لیکن ہر دفعہ جب دُعا کرتا ہوں خدا تعالیٰ کے فرشتے مجھے آسمان پر یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ اٹھا الْكُفَّارُ اقْتُلُوا الْفُجَّار۔اے کا فروا یہ لوگ فاجر ہو گئے ہیں انہیں خوب مارو۔اور جب خدا تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ فاجر مسلمانوں کو قتل کیا جائے تو میں دُعا کیا کر سکتا ہوں۔تو اٹھارہ لاکھ مسلمان اس موقع پر قتل کیے گئے بلکہ اس قتل عام کی بعض ایسی تفصیلات بیان